BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 October, 2004, 15:11 GMT 20:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مغربی بنگال میں آئی ٹی اور کمیونزم
ریاست میں کمیونسٹ ستائیس سالوں سے اقتدار میں ہیں
ریاست میں کمیونسٹ ستائیس سالوں سے اقتدار میں ہیں
دنیا کے کسی بھی علاقے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی کے دروازے پر اگر ہتھوڑا اور درانتی کا نشان بنا ہو تو اس سے آپ کیا اخذ کریں گے؟

مغربی بنگال میں جہاں کمیونسٹ ستائیس سال سے اقتدار میں ہیں دارالحکومت کلکتہ میں سافٹ ویئر کمپنی وِپرو کے ہیڈکوارٹر پر ہتھوڑا اور درانتی کا نشان کچھ عجیب سا لگتا ہے۔

وِپرو کا دفتر سالٹ لیک سٹی میں ہے جو کلکتہ کے باہر ایک آئی ٹی پارک ہے۔ یہاں لگ بھگ ملک کی تمام ہی سافٹ ویئر کمپنیوں کے دفاتر ہیں۔ یہاں آئی بی ایم اور پرائیس واٹر ہاؤس کوپر کے دفتر بھی واقع ہیں۔

اب کمیونسٹ حکومت اس آئی ٹی پارک کو سالٹ لیک سے ہوائی اڈے تک توسیع دے رہی ہے، کچھ بڑی بڑی نئی عمارتیں اور بڑی بڑی شاہراہیں تعمیر کی گئی ہیں۔ خالی شاہراہ پر ڈرائیو کرتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کسی فلم کے سیٹ پر داخل ہورہے ہوں۔

مغربی بنگال میں انیس سو ستتر سے کمیونسٹ پارٹی کی حکومت ہے لیکن اب ان کی سرخ سیاست روز بہ روز کمزور ہورہی ہے۔ کمیونسٹ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی حمایت میں پالیسیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔

بنگلور اور حیدرآباد دکن کے بعد مغربی بنگال کے حکمران ریاست کو آئی ٹی کے اہم مرکز کے طور پر فروغ دینے کی کوشش رہے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ ملک کی آئی ٹی کی صنعت میں مغربی بنگال کا حصہ سن دو ہزار دس تک پندرہ فیصد ہوجائے۔ ریاست میں آئی ٹی کے وزیر ایم موکھرجی کا کہنا ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول میں کامیاب رہیں گے۔

کمیونسٹ حکومت نے آئی ٹی سروسز کو ’ضروری اشیاء‘ کا قانونی درجہ قرار دیا ہے جو شاید سرمایہ دارانہ نظام کے حامیوں کے لئے باعث تعجب ہوگا۔ آئی ٹی کو ضروری اشیاء کا قانونی درجہ دینے کا مطلب ہے کہ ملازمین کو ہڑتال کرنے کا حق نہیں ہوگا۔

مغربی بنگال کی حکومت ریاست میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے کمپنیوں کے لئے رعایتیں دینے کی پالیسی بھی بنائی ہے اور اس تاثر کو غلط ثابت کرنے میں مصروف ہے کہ ریاست میں افسرشاہی کمپنیوں کے راستے میں ایک رکاوٹ ہے۔

آئی ٹی کی وزارت شہر کے تجارتی مرکز میں واقع ہے اور اس کی کوشش ہے کہ وہ اہلکار جو تجارت کاروں کے راستے میں رکاوٹ ثابت ہورہے ہیں ان کو دوسری جگہ ٹرانسفر کردیا جائے۔ آئی ٹی کے وزیر نے یہ پالیسی بھی بنائی ہے کہ وہ کسی بھی ممکن سرمایہ کار سے اڑتالیس گھنٹے میں ملاقات کرں گے۔

ریاست میں انفارمیشن ٹکینالوجی کے بیس ہزار ملازمین ہیں۔ حکومت کو یقین ہے کہ آئی ٹی کے وجہ سے بہت لوگوں کو روزی روٹی کے نئے ذرائع مہیا ہوسکتے ہیں۔ ملک کے دیگر شہروں کے مقابلے میں یہاں آئی ٹی میں کام کرنے والوں کو بیس فیصد کم تنخواہ ملتی ہے جو کمپنیوں کے لئے باعث کشش ہے۔

راوی منڈاپاکا کلکتہ میں ایک آئی ٹی کمپنی چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے براڈ بینڈ اور بجلی کی مسلسل فراہمی کے لئے جو پیسے خرچ کیے ہیں ان کی وجہ سے اب کلکتہ کو ایک پرہجوم اور آلودہ شہر کی حیثیت سے نہیں جانا جائے گا۔ لیکن آئی ٹی میں کام کرنے والے ملازمین کو جو شہر کے قیمتی مکانوں میں نہیں رہ سکتے، دور سے سفر کرکے آنا پڑتا ہے۔

مغربی بنگال میں آئی ٹی کو فروغ دینے میں جو دوسری مشکل پیش آرہی ہے وہ ہے انگریزی بولنے والوں کی کمی۔ سال بھر پہلے ریاست میں طلباء کو گیارہ سال کی عمر کے بعد ہی انگریزی پڑھائی جاتی تھی۔ اب بچے جیسے ہی سکول جاتے ہیں انگریزی پڑھنا شروع کردیتے ہیں۔

لیکن تبدیلی آنے میں وقت لگے گا۔ اس کی وجہ سے ریاست میں کال سینٹر کا فروغ بھی محدود حد تک ہی کامیاب رہے گا۔ اگرچہ کمپنیاں ملازمین کو کمپیوٹر استعمال کرنا سکھا دیں گی، تاہم انہیں ایک زبان سکھانا مشکل کام ہے۔

البتہ اتنا ضرور ہے کہ ریاست میں کمیونسٹ حکومت صحیح راستے پر گامزن ہے اور حال ہی میں برطانوی بینک ایچ ایس بی سی کا اپنا کال سینٹر مغربی بنگال میں منتقل کرنے کا فیصلہ اسی بات کا ثبوت بھی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد