BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 May, 2004, 14:29 GMT 19:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں ’سستی‘ آئی ٹی کا گڑھ

رینبو سینٹر
گزشتہ چند روز سے کراچی کے رینبو سینٹر ميں مندی کا رحجان ہے
سی ڈيز اور ڈی وی ڈيز کی تين سو سے زائد دکانيں، تنگ گليوں ميں صارفین کا ہجوم‍ اور سی ڈی پلئيرز سے آتی موسيقي کی آوازيں: يہ ہے کراچی ميں کمپیوٹر اشیاء کی غیرقانونی نقول کا مرکز رينبو سينٹر‌۔

گزشتہ چند روز سے اس مرکز ميں مندی کا رحجان ہے۔ دکانوں کے شو کیسوں پر کمپیوٹر پرگرام ونڈوز، اوريکل، فوٹوشاپ اورکمپيوٹرکے ديگر پروگراموں‌کے نام‍ تو موجود ہيں مگر ان کی پروگرام سی ڈيز موجود نہيں ہیں۔

ایک جانب جہاں پائيرٹڈ سافٹ وئير کے حا می ايک عام پاکستانی کی مالی استطاعت کا حوالہ دے کراسے سستی تعليم اور انفارميشن ٹیکنالوجی سے مستفيد ہونے کا اہم ذريعہ ٹھہراتے ہيں وہيں کھلے عام جعلی سافٹ وئير کے کاروبار کا منفی اثر معیشت خصوصاً پاکستان کی آئی ٹی صنعت پر بھی ہے-

حکومت کی جانب سے پائرٹڈسافٹ وئير يعنی سافٹ وئير کی ‏غير قانونی نقول بنانے والے کارخانوں پرچھاپوں اور پابنديوں کے بعد سے مارکيٹ ميں ان کی فراہمی معطل ہے جس کی وجہ سے مرکز کے دکاندار اور صارفين دونوں پريشان ہيں۔

رینبو سینٹر
رینبو سینٹر میں کمپیوٹر سافٹ وئیر کے علاوہ ڈی وی ڈیز اور سی ڈیز کا کاروبار بھی ہوتا ہے
انہیں صارفين میں ایک ابصار بھی ہیں جو جامعہ کراچی میں کمپیو ٹر سا‏ئنس کے طالب علم ہيں۔ وہ کمپیو ٹر پروجیکٹ کے لیے درکار ریشنل روز سافٹ وئير کی تلاش میں رین بو سنٹر آئے ہیں-

ملک میں کاپی رائٹ قوانین کے نفاذ اور اپنا مطلو بہ سافٹ وئير نہ ملنے پر ابصار نے سافٹ وئير پائریسی کی حمایت کر تے ہو ئے انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے غریب ملک ميں اگر پائریسی ہو رہی ہے تو کوئی حرج کی بات نہیں کیونکہ یہاں پر کوئی بھی طالب علم پانچ ہزار روپے کا سافٹ وئير خریدنے کی استاعت نہیں رکھتا-

کچھ اسی قسم کی رائے رین بو سنٹر میں آئے سلمان احمد کی بھی تھی جو کھارادر کے ايک مقامی تعلیمی ادارے میں مائیکرو سافٹ آفس پرگرام سیکھ رہے ہیں-

سلمان کے مطابق وہ مائیکرو سافٹ آفس خریدنے کےغرض سے گزشتہ چار دنوں سے رین بو سنٹر کے چکر لگا رہے ہیں مگر سافٹ وئير دستیاب نہیں ہے۔

ان کے خیال میں ملک میں سافٹ وئير پر کاپی رائٹ قوانین کا نفاذ نہيں ہوناچاہیے کیونکہ بقول سلمان پچيس، تیس روپے کی سافٹ وئير سی ڈی خریدنےکے لیے انہیں اپنا ایک دن کا جیب خرچ صرف کرنا پڑتا ہے اور اگر وہی سی ڈی پانچ سو روپے میں ملنے لگ گئی تو مجبواً انہیں اپنی کمپیوٹرتعلیم ختم کرنا پڑے گی۔

ديگر ممالک کی طرح، پاکستان ميں بھی پائيرٹڈ سافٹ وئير يا جعلی سافٹ وئير کی ترسيل قابل سزاجرم قرار دی گئی ہے مگر اس قانون کا نفاذ کتنا مؤثرہے اس کا انداز‍‎ہ اس بات سے لگايا جا سکتا ہے کہ ملک بھر ميں چھو ٹی بڑی دکانوں پرپچاس سے لے کر پانچ سو امريکی ڈالر کی قیمت کےسافٹ و‏ئیرکی نقول محض پچيس سے لے کر چاليس روپے فی سی ڈی کےغوض فروخت کی جاتی رہی ہيں۔صرف يہی نہیں بلکہ یہاں سے یہ مال برآمد بھی کيا جاتا ہے۔

انٹر نيشنل انٹلکچو ئل پراپرٹی الائنس کی شائع کردہ ايک رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال پاکستان سے 180 کروڑ امريکی ڈالر کی ماليت کی جعلی سافٹ وئير سی ڈيز چھياليس ممالک کو برآمر کی گئی ہيں۔

تازہ ترین اقتصادی سروے کے مطابق ايک پاکستانی کی اوسط سلانہ آمدنی چار سو بانوے ڈالر ہےـ جبکہ مائیکرو سافٹ آفس جیسے عام استعمال میں آنے والے سافٹ وئير کی اصل قیمتایک سو پچیس امريکی ڈالر سے لے کر چار سو تین سو پینتالیس امريکی ڈالرتک ہےـ

پاکستان ميں مائیکرو سافٹ کے کنٹری مينجر جواد رحمان کے مطابق پاکستان ميں سافٹ وئير پائيرسی کی مؤثر روک تھام کے بغير ملک ميں آئی ٹی صنعت کا قيام ممکن نہيـں۔

آی ٹی کے پيشے سے وابستہ افراد کی بے روزگاری کی اہم وجہ ملک ميں پائيرسی کو ٹھہراتے ہوئے جواد رحمان کہتے ہيں پاکستان میں یہ کھلے عام سافٹ وئير چوری کا کاروبار نہيں ہونا چاہيے۔

غير ملکی کمپنياں پاکستان ميں آئی ٹی صنعت سرمايہ کاری کرنے کے ليے تيار نہيں کيونکہ انہيں معلوم ہے کہ يہاں پر پائریسی کے مسئلے ہيں اور جب تک پاکستان آئی ٹی کے شعبہ میں غير ملکی سرمايہ کاری حاصل نہیں کرے گا تب تک یہاں آئی ٹی صنعت مستحکم نہيں ہو سکتی ہےـ

تجارتی اداروں ميں غير قانونی جعلی سافٹ وئير کی روک تھام کے ليے مائیکرو سافٹ سميت ديگر آئی ٹی کمپنيو ں پر مشتعمل ايک تنظيم بزنس سافٹ وئير الا ئنس موجود ہے۔

لیکن کمپيوٹرپروگراموں کے غير قانونی نقول اور استعمال کی وجہ سے ہر سال کمپيوٹر پروگرام بنانے والی کمپنيوں کو ہر سال کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد