پاکستانی نیٹ کیفوں میں فحاشی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی ارکان اسمبلی نے فحاشی کی روک تھام کے لیے انٹرنیٹ کیفوں کی رجسٹریشن اورانہیں ایک باقاعدہ نظام میں لانے کی تجویز پیش کی ہے۔ بدھ کو بیگم بشریٰ رحمٰن نے نے ایوان کی توجہ انٹر نیٹ کیفوں میں فحش مواد کی بقول ان کے ’بے محابا‘ نمائش کی طرف دلائی اور کہا کہ یہ کسی ایک علاقے سے مخصوص نہیں ہے بلکہ پورے ملک میں ہر جگہ انٹریٹ کیفوں میں یہی ہو رہا ہے۔ انہوں نے ایوان کا بتایا کہ چھوٹے اور بڑے شہروں میں جگہ جگہ اس طرح کے بے شمار انٹرنیٹ کیفے کھل گئے ہیں اور اب ان کا ایک طوفان سا آیا ہوا لگتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹر نیٹ کو تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال ہونا چاہیے تاہم اس کے علاوہ ان تمام کیفوں کو کسی ضابطۂ اخلاق کا پابند بنانا ضروری ہے۔ بیگم بشریٰ کی اس قراداد کو پیش کرنے کی حمایت کرنے والے دیگر ارکان اسمبلی میں ڈاکٹر فرید پراچہ، رانا آصف توصیف، انور علی چیمہ، اور حنیف عباسی شامل تھے۔ بیگم بشریٰ رحمٰن نے سندھ میں بڑھتے ہوئے کارو کاری کے واقعات پر بھی توجہ دلائی جس پر وزیر داخلہ نے ایوان کو بتایا کہ کارو کاری کے جو واقعات پولیس کے علم میں لائے جائیں گے ان پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ تین سو دو کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||