انٹر نیٹ دوستی، شادی، مقدمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیٹ پر دوستی کے قصے آج کل عام ہیں اور آئے دن دھوکہ دہی کے واقعات کے ساتھ ساتھ اکثر یہ دوستی رشتۂ ازدواج میں بھی تبدیل ہوجاتی ہے۔ یہی نیویارک میں رہنے والی زنیرہ کے ساتھ بھی ہوا۔ گو انہیں اس کے بعد کچھ غیر موزوں صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ انٹرنیٹ پر زونیرا کی دوستی حیدر آباد کے طاہر احمد سے ہوگئی۔ یہ دوستی اتنی گہری ہوگئی کہ دونوں نے شادی کا فیصلہ کرلیا۔ زونیرا طاہر سے ملنےگیارہ اپریل کو نیو یارک سے کراچی آئیں۔ جہاں ہوائی اڈے پر طاہر نے ان کا استقبال کیا۔ پھر دونوں کسی نامعلوم مقام پر روپوش ہوگئے اور رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد لڑکی کے ایک رشتہ کے ماموں چوہدری سلیم امتیاز چیمہ نے حیدرآباد کے ایک تھانے میں ہوائی اڈے سے لڑکی کے مبینہ اغواء کی رپورٹ درج کرائی۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لڑکے کی غیر موجودگی میں اس کی والدہ اور بھائیوں کو حراست میں لے لیا اور طاہر کی تلاش شروع کر دی۔ طاہر کی والدہ اور بھائیوں کو بارہ گھنٹے حبس بے جا میں رکھنے کے بعد اس یقین دہانی پر رہا کیا گیا کہ وہ طاہر اور زونیرا کو پولیس کے روبرو پیش کردیں گے۔ بائیس سالہ طاہر نجی ملازمت کرتے ہیں - کراچی کے ایک وکیل ایم اے قریشی کا، جن کا دعوٰی ہے کہ زونیرا نے انہیں اپنا وکیل مقرر کیا ہے، کہنا ہے کہ وہ اس جوڑے سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ایم اے قریشی کا کہنا ہے کہ زونیرا نے قونصل خانے سے قانونی مدد کے لۓ رجوع کیا تھا اور امریکی قونصل خانے نے زونیرا کے وکیل کے طور پر ان کا نام تجویز کیا تھا۔ وکیل کے مطابق زونیرا کی عمر ان کے پاسپورٹ میں درج تاریخ پیدائش کے حساب سے اٹھارہ سال تین ماہ ہے۔ ان کے والدین نیو یارک میں رہتے ہیں۔ پولیس کے پاس درج رپورٹ کے مطابق زونیرا نیویارک سے نو ہزار پانچ سو ڈالر اور تیس تولے سونے کے زیورات اپنے ساتھ لائی تھیں۔ پولیس کے مطابق بدھ کو وکیل کے منشی نے تھانے آکر زونیرا اور طاہر کا نکاح نامہ اور حلف نامہ پیش کیا تھا جس کے بعد پولیس نے ان کی تلاش کی کارروائی معطل کر دی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||