ہندوستانی ساست کا ہنگامہ خیز سال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سن دوہزار چار ہندوستان کی سیاست میں ایک ہنگامہ خیز برس رہا ہے۔ سیاسی طور پر یہ برس بڑی بڑی تبدیلیوں کا برس ثابت ہوا۔ اقتصادی محاذ پر ملک کی کار کردگی اچھی رہی اور غیر ملکی زرمبادلہ کا ذخیرہ ایک سو تین بلین ڈالرکو بھی تجاوز کرگیا۔ اس برس کا جب آغاز ہوا اس وقت وزیراعظم اٹل بہاری واچپئی کی قیادت میں بی جے پی اور اسکی اتحادی جماعتوں کا اعتماد اپنے عروج پر تھا۔ حکمراں اتحاد کو اپنی حکومت کی کارکردگی پر اتنا بھروسہ تھا کہ اس نے عام انتخابات وقت مقررہ وقت سے چھ مہینے پہلے ہی کرانے کا فیصلہ کیا۔ انتخابات میں بی جے پی نے ملک کی ترقی اور واجپئی حکومت کی کارکردگی کو اپنا موضوغ بنایا لیکن رفتہ رفتہ ساری مہم اور حملے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے غیر ملکی نژاد ہونے پر مرکوز ہوگئے۔ اپریل میں انتخابات ہوئے اور ساری پیشین گوئیوں کے بر عکس کانگریس فتحیاب ہوئی۔حالانکہ اسے اپنے طور پر اکثریت نہ مل سکی۔ لیکن جب سونیا گاندھی کے وزیراعظم بننے کے سارے راستے ہموار ہو چکے تھے انہوں نےایک ڈرامائی فیصلے میں وزیراعظم کا عہدہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔ گاندھی نے کہا کہ انہیں کسی عہدے کی لالچ کبھی نہیں تھی اور کوئی عہدہ قبول نہ کرنا انکے ضمیر کا فیصلہ ہے۔
ہندو قوم پرست جماعتیں اور انکے ناقدین انکے فیصلے سے سکتے میں آگۓ۔ مئی میں نامور ماہر اقتصادیات من موہن سنگھ ملک کے نئے وزیراعظم بنے۔ انکی اقلیتی حکومت بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت سے چل رہی ہے۔ بائیں بازو کی جماعتیں سنگھ کی اقتصادی اصلاحات کے تقریبا ہر قدم کی مخالفت کررہی ہیں۔سال کے اواخر میں دلی میں یہ افواہیں گرم تھیں کہ وزیراعظم بائیں بازو کی جماعتوں کی مخالفت سے اتنا تنگ آچکے ہیں کہ انہوں نے مستعفی ہونے کی پیش کش کی تھی۔ کانگریس کی طرف سے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ ادھر بی جے پی کے لیے یہ سال پریشان کن رہا۔ پارلیمانی انتخابات میں غیر متوقع شکست کے بعد اسے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں بھی شکست ہوئي۔ پارٹی کے صدر وینکیا نائیڈو مستعفی ہوئے اور ایل کے ایڈوانی ایک بار پھر پارٹی کے صدر بنے گۓ۔ لیکن پارٹی کے اندر اختلافات ابھر کر سامنے آنے لگے۔ نئی حکومت کی تشکیل کے بعد حزب اختلاف نے لالو پرساد یادو، شیبو سورین اور جگدیش ٹائٹلر جیسے کئی رہنماؤں کی کابینہ میں شمولیت پر اعتراض کیا۔ حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ ایسے وزراء کو برطرف کیا جائے جن کے خلاف مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔ یہ معاملہ سال کے آخر تک حل نہیں ہوسکا تھا۔اور سبھی وزراء کابینہ میں برقرار ہیں۔
سن دو ہزار چار گجرات کے مقدمات کے لیے بھی یاد کیا جائے گا۔ حقوق انسانی کی تنظیموں کی زبردست جدوجہد اور سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد گجرات کا بیسٹ بیکری مقدمہ نہ صرف دوبارہ شروع کیا گیا بلکہ اسے ریاست سے باہر منتقل کردیا گیا۔ اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کے لیے سرکردہ سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ نے انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیکن جب ممبئی کی ایک عدالت میں گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جارہے تھے اور بیشتر ملزم پولس کی گرفت میں تھے اس مقدمے کی عینی شاہد ظاہرہ شیخ اپنے بیان سے منحرف ہوگئی اور اس نے الٹا تیستا پر الزام عائد کیاکہ انہوں نے اس پر دباؤ ڈال کر ملزموں کے خلاف بیان دلوایا تھا۔ دسمبر کے آواخر میں اخبار تہلکہ نے ایک سنسنی خیز خفیہ فلم سازی کے ذریعے یہ دعوی کیا کہ ظاہرہ شیخ سے بیان بدلوانے کے لیے اسے رشوت اور دھمکی دونوں دی گئی ہے۔ ظاہرہ نے اس الزام کو بے بنیاد بتا کر پوری طرح مسترد کردیا ہے۔ نومبر میں ہندوؤں کے ایک اعلی رہنما کانچی کے شنکرآچاریہ جینندر سرسوتی کو اپنے ہی ایک ساتھی کے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ وہ ابھی تک جیل میں ہیں۔اور انہیں ضمانت پر رہائی نہیں مل سکی ہے۔ گزشتہ اکتوبر میں ملک میں پہلی بار مذہبی بنیادوں پر مردم شماری کی تفصیلات جاری کی گئیں۔اس کے مطابق مسلمانوں کی شرح پیدائش میں گزشتہ دہائی کے مقابلے کمی آئی ہے لیکن ہندوؤں کی شرح پیدائش سے کافی زیادہ ہے۔ بی جے پی اور دیگر ہندو تنظیموں نے شرح پیدائش کے اس فرق کو ملک کے لیے خطرناک قرار دیا۔ اکتوبر میں ہی تامل ناڈور اور کرناٹک کے جنگلوں میں سرگرم خونخوار ڈاکو ویرپن مارا گیا۔ ہر سال کی طرح اس برس بھی کئی غیرملکی اہم رہنماؤ ں نےملک کا دورہ کیا۔ ان میں امریکہ کے وزیرخارجہ کولن پاول، امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے نام قابل ذکر ہیں۔ ہندوستان کے اسرائیل سے تعلقات میں بدستور بہتری آرہی ہے۔اور اب وہ ہندوستان کو جنگی ساز و سامان فراہم کرنے والا روس کے بعد دوسرا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ اقتصادی محاذ پر ہندوستان نے ترقی کی کئی منزلیں طے کیں لیکن ملک کے سب سے بڑے گھرانے ریلائينس کے مالکان دونوں بھائیوں میں پھوٹ پڑ گئی۔ دسمبر کے آواخر میں انڈونیشیا کے سمندری زلزلے سے اٹھنے والی لہروں نے انڈونیشیا سے لیکر سری لنکا اور صومالیہ تک زبردست تباہی مچائی۔ ہندوستان میں بھی ہزاروں افراد مارے گئے۔ سال کے آخر تک ملک میں سوگ میں ڈوبا رہا۔ سن دوہزار چار سیاسی اعتبار سے ہندوستان کے لیے بہت ہی ہنگامہ خيز رہاہے۔ اس برس بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار سے ہٹی۔ واجپئی اور ایڈوانی اب بھی فعال سیاست میں سرگرم ہیں۔ لیکن باور کیا جاتا ہے کہ یہ اور انکے دیگر ہم عمر بزرگ رہنما شاید اب زیادہ دنوں تک فعال سیاست میں نہیں رہ پائیں گے۔ گزشتہ برس بدلتے ہوئے دور کا برس تھا۔ ملک کے سیاسی افق پر سیاست دانوں کی ایک نئی نسل نمودار ہورہی ہے۔ سن دوہزار پانچ کا آغاز بہار، جھارکھنڈ اور ہریانہ جیسی اہم ریاستوں میں انتخابات سے ہورہا ہے اور یہ انتخابات ملک کی مستقبل کی سیاست بہت گہرا اثر ڈالیں گے۔ ان انتخابات میں لالوپرساد یادو کے سیاسی کے سیاسی مستقبل کا بھی فیصلہ ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||