کشمیر بس مذاکرات شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان مجوزہ بس سروس شروع کرنے کے لئے دہلی میں پاکستان اور انڈیا کے مابین مذاکرات کا اہم دور شروع ہوگیا ہے۔ یہ سروس انیس سو سینتالیس میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی پہلی جنگ کے بعد بند کردی گئی تھی۔ کنٹرول لائن کی وجہ سے بچھڑ جانے والے کشمیری خاندان عرصہِ دراز سے اس سروس کو دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ پاکستانی وزارتِ حارجہ کے اہلکار جلیل عباس جیلانی نے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ مذاکرات انتہائی اہم ہیں اور یہ سروس شروع ہونے سے کشمیری حالات میں بہتری محسوس کرسکیں گے۔‘ تاہم متنازعہ علاقوں میں اس طرح کی بس سروس شروع کرنے میں دونوں ممالک کو کئی سفارتی اور سیاسی دشواریوں سے گزرنا ہوگا۔ کہا جا رہا ہے کہ انڈیا چاہتا ہے کہ اس سروس کے مسافر بغیر پاسپورٹ سفر نہ کرسکیں تاہم پاکستان کی خواہش ہے کہ کشمریوں کو ویزا اور پاسپورٹ جیسے رسمی سفری کاغذات سے مستثنیٰ قرار دیا جائے کیونکہ اس کا مطلب لائن آف کنٹرول کو ایک مستقل سرحد ماننے کے مترادف ہے۔ اطلاعات کے مطابق اگر یہ سروس شروع ہوبھی جاتی ہے تو سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان کی ایک سو ستر کلومیٹر لمبی سڑک خاصی مرمت طلب ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||