حریت رہنما سری نگر سے روانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِانتظام کشمیر سے علحٰیدگی پسند کشمیری رہنما آج پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد پہنچ رہے ہیں۔ حکومت پاکستان نے کشمیری علحیٰدگی پسند رہنماؤں کو مذاکرات کے لئے پاکستان آنے کی دعوت دی ہے۔ کشمیری رہنماؤں کو سفری دستاویز جاری تو ہوئے ہیں لیکن بھارت نے انہیں کہا ہے کہ وہ مظفر آباد کے علاوہ کہیں اور نہ جائیں۔ گزشتہ روز بھارت کی وزراتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے واضح کیا کہ اگر کشمیری رہنما اسلام آباد گئے تو اس کی ذمہ داری پاکستان پر ہوگی۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومت کشمیری علحیٰدگی پسند رہنماؤں کا وسیع پیمانے پر استقبال کرنے کے لئے تیاریاں کررہی ہے اور ان کی آمد کے موقع پر سکیورٹی کے بھی سخت انتظامت کئے جارہے ہیں ۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم کی مشیر برائے اطلا عات نورین عارف نے کہا ہے کشمیر کے اس علاقے کے وزیراعظم سردار سکندر حیات خان، کابنیہ کے وزرا، ممبران قانون ساز اسمبلی اور کئی سیاسی جماعتوں کے سربراہ کشمیری رہنماؤں کا استقبال چکوٹھی کے مقام پر دونوں کشمیر کو ملانے والے پل پر کریں گے۔ اس موقع پر انکے کہنے کہ مطابق امن کی علامت کے طور پر کبوتر اڑائے جائیں گے اور غبارے ہوا میں چھوڑے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام لوگوں سے کہا گیا ہے کہ چکوٹھی میں بس ٹرمینل پر مہمانوں کے استقبال کے لئے جمع ہوں۔ کشمیری علحیٰدگی پسند رہنماؤں کو چکوٹھی سے بس کے بجائے خصوصی گاڑیوں کے ذریعے مظفرآباد لایا جائے گا۔ ان کی آمد کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامت کئے جارہے ہیں۔ ایڈیشنل سیکریڑی داخلہ کا کہنا ہے کہ مظفرآباد سے لائن آف کنڑول تک ساٹھ کلومیڑ کی شاہراہ پر وردی اور سادہ لباس میں پولیس اور اسکیورٹی کے اہلکار تعنات کئے جائیں گے۔ شہر مظفرآباد میں دیواروں پر کشمیری رہنماؤں کی تصویروں والے پوسڑز چسپاں کئے گئے ہیں اور شاہراہوں پر خیرمقدمی بینرز لگائے گئے ہیں جبکہ کچھ رکشوں اور گاڑیوں پر بھی کشمیری رہنماؤں کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔ کشمیری رہنما مظفرآباد میں دو روز قیام کریں گے ۔ اس دوران وہ جمعرات کو اپنے دورے کے آغاز پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے اس کے علاوہ وہ کشمیر کے اس علاقے کے وزیراعظم اور صدر کے ساتھ ساتھ دوسرے کشمیری رہنماؤں سے تبادلہ خیال کریں گے۔اس کے علاوہ وہ کشمیر کے اس علاقے کی قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||