BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 31 May, 2005, 21:18 GMT 02:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان آنیوالے رہنماؤں کی تصدیق

کشمیری
حریت کانفرنس کے سید علی شاہ گیلانی نےاس دعوت کو قبول نہیں کیا
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام نے منگل کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے لگ بھگ ایک درجن علحٰیدگی پسند رہنماوں کے ناموں کی فہرست تصدیق کے بعد بھارتی حکام کے حوالے کی اور یہ کشمیری رہنما جمعرات کو بس کے ذریعے مظفرآباد پہنچ رہے ہیں۔ پاکستان کی حکومت نے کشمیری علحیدگی پسند رہنماؤں کو مذاکرات کے لئے پاکستان آنے کی دعوت دی ہے۔

حریت کانفرنس کے ایک دھڑے نے جسکی قیادت سید علی شاہ گیلانی کر رہے ہیں اس دعوت کو قبول نہیں کیا۔

بھارتی حکام نے آج صبح ساڑھے دس بجے چکوٹھی میں کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول پرگیارہ علحیٰدگی پسند کشمیری رہنماؤں کے ناموں کی فہرست تصدیق کے لئے پاکستانی حکام کو دی جسے پاکستانی حکام نے بعد دوپہر ہی تصدیق کا بعد بھارتی حکام کو واپس لوٹا دیا اور اب یہ کشمیری رہنما جمعرات کو بس کے ذریعے مظفرآباد پہنچ رہے ہیں۔

بھارتی حکام کی جانب سے تصدیق کے لئے دی جانے والی فہرست میں علحٰیدگی پسند اتحاد کل جماعتی حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے سربراہ مولوی عمر فاروق اور اس اتحاد کے چار دیگر اراکین عبدالغنی بٹ ، مولانا عباس انصاری ، بلال غنی لون اور فضل الحق قریشی کے نام ہیں۔

اس کے علاوہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے اپنے دھڑے کے سربراہ محمد یٰسین ملک اور علیحٰدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ کی جموں کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ایک رہنما عبداللہ طاری کا نام بھی اس فہرست میں ہے البتہ اس فہرست میں خود شبیر شاہ کا نام نہیں ہے۔ امکان ہے کہ شبیر شاہ اور انکے ایک اور ساتھی کا نام بدھ کے روز تصدیق کے لئے بیجھا جائے گا۔ چار اور رہنماؤں کے نام جو منگل کی فہرست میں ہیں ان کا تعلق کل جماعتی حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے سربراہ مولوی عمر فاروق کی اپنی جماعت عوامی ایکشن کمیٹی سے ہے۔ یہ کشمیری رہنما جمعرات کو حکومت پاکستان کی دعوت پر پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دورے پر آرہے ہیں۔ حکومت پاکستان نے بھارت سے علحٰیدگی کے حامی کشمیری رہنماؤں کو مذاکرات کے لئے پاکستان آنے کی دعوت دی ہے البتہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سخت گیر موقف رکھنے والے دھڑے کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی اور انکے بیشتر ساتھیوں نے اس دعوت کو مسترد کیا۔ سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر ناراض ہیں کہ پاکستان نے کشمیر کے معاملے پر اپنے موقف میں نرمی پیدا کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد