’کشمیر: بس سروس رک بھی سکتی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار سکندرحیات خان نے کہا ہے کہ اگر ہندوستان نے مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان بس سروس سے کسی طرح کا کوئی ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو اس سروس میں رکاوٹ کھڑی کی جائے گی۔ ابھی بس سروس کو شروع ہوئے دو ماہ بھی نہیں ہوئے کہ وزیراعظم کی طرف سے یہ بیان آیا ہے۔ کشمیر میں 7 اپریل کو بس سروس کا آغاز ہوا تھا اور لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف عمومی طور پر خوشی کا اظہار کیا گیا تھا۔ خاص طور پر منقسم کشمیری خاندان والے اس بس سروس کو بہت بڑی راحت تصور کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہ بس سروس کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول کے دونوں طرف منقسم کشمیری خاندانوں کو آپس میں ملانے کے لئے ایک سہولت ہے ۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس بس سروس کے باوجود ہندوستان کی طرف سے اسکے زیرانتظام کشمیر میں ’کشمیریوں پر ظلم و زیادتیاں جاری ہیں اور کشمیریوں کی ہلاکتیں ہورہی ہیں‘۔ انھوں نے کہا بس سروس جیسے اقدام کےساتھ ساتھ اگر ہندستان کشمیروں پر زیادتیاں بند نہیں کرتا اور شہری علاقوں سے فوج پیچھے نہیں ہٹاتا اور پرامن ماحول پیدا نہیں کرتا تو یہ بس سروس زیادہ عرصے تک نہیں چلے گی۔ سکندر حیات خان نے کہا کہ جس دن کشمیریوں نے یہ محسوس کیا کہ بھارت اس بس سروس سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو ہم پہلے لوگ ہونگے جو اس بس سروس کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے۔ بعد ازاں وزیراعظم سکندر حیات خان نے پاکستان کے ایک نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں نے اس بس سروس کو تنازعہ کشمیر کے حل کے طور پر نہیں بلکہ ایک سہولت اور مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف ایک قدم کے طور قبول کرتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا تھا ۔ سردار سکندر حیات کا کہنا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف نہیں بڑھ رہے۔ ’ایسی صورت میں کشمیری کس طرح اس بس سروس کو قبول کریں گے‘۔ فی الوقت مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان ایک ماہ میں دو بسیں چلتی ہیں اور ہر بس میں ایک طرف سے زیادہ سے زیادہ تیس مسافر وں کو سفر کرنے کی اجازت ہے ۔ چوتھی بس گزشتہ جمعرات کو چلی تھی۔ وزیراعظم سردارسکندر حیات خان کا یہ بیان کشمیر کے اس علاقے کی حکومت کی اپنی منشا سمجھا جائے یا کسی اور کی یا اس کو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات میں کسی پیچیدگی کی طرف اشارہ سمجھا جائے، فی الوقت اس کا جواب دینا مشکل ہے ۔لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ ان کے اس بیان سے بس سروس کے حامیوں میں کسی حد تک پریشانی ہوگی جبکہ اس کے مخالفین اس کو اپنے لئے حوصلے کا باعث سمجھ سکتے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے اس پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||