اِک نئی تاریخ رقم ہو گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آنسو خشک ہو چکے ہیں اور افسردگی آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے۔ سرینگر سے مظفر آباد آنے والے مسافروں میں سے زیادہ تر لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے جوش کو ایک طرف رکھتے ہوئے ماحول میں ضم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ الطاف حسین بیگ جیسے کچھ افراد کی خواہش تھی کہ ’گزشتہ رات ختم ہی نہ ہو‘۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم دو بجے رات تک جاگتے رہے اور گزشتہ بیس برس کی باتیں کرتے رہے۔‘ الطاف حسین کومظفرآباد میں موجود دیگر بیس مسافروں کے ہمراہ آزاد کشمیر کے وزیرِاعظم کی جانب سے ناشتے پر بلایا گیا ہے۔ راجوری کی ستر سالہ بی بی نامی خاتون کے لیے یہ ایک تھکا دینے والا سفر تھا۔ تاہم ان کہنا ہے کہ انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ مظفر آباد پہنچنے پر ان کا ایسا شاندار استقبال ہوگا۔ بی بی اپنے وہ پندرہ روزہ قیام کے دوران زیادہ تر وقت اپنے رشتہ داروں میں گزاریں گی اور انہیں اس تاریخی موقع پر سیاست دانوں کے جانب سے جاری کیے جانے والے بیانات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اس بس کے ذریعے مظفر آباد آنے والے جانتے ہیں کہ انہوں نے تاریخ رقم کی ہے۔ اس چیز کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ اب یہ مسافر اپنے پیاروں سے ملنے کی باتوں کے بجائے اس بات پر زیادہ زور دے رہے ہیں کہ ان کے اس سفر سے مستقبل پر کیا اثر پڑے گا۔ بس سروس کے ان تمام پرجوش حامیوں کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ کہیں کہیں اس بس سروس کے مخالف بھی نظر آتے ہیں۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ امان اللہ خان کا کہنا ہے کہ ’ یہ بس سروس تحریکِ آزادی کے لیے ایک آہستہ اثر کرنے والا زہر ہے‘۔ لبریشن فرنٹ کی سیاسی مخالف جماعتِ اسلامی بھی اس معاملے میں لبریشن فرنٹ کی حامی ہے گو کہ اس کا بیان مذہب کو بنیاد بنا کر دیا گیا ہے۔ یہ سکیولر اور اسلامی گروپ ان لوگوں کے خلاف ہیں جو شاید سیاسی عمل سے تنگ آچکے ہیں۔ ان لوگوں کے خیال میں بس سروس نے یہ ثابت کیا ہے کہ آزادی کا انحصار صرف آئینی بنیاد پر ہی نہیں ہوتا اور اپنے ملک میں بنا کسی پابندی کے سفر کرنا بھی آزادی کے اظہار کا ایک واضح طریقہ ہے۔ یہ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ سری نگر سےمظفر آباد کا راستہ ہی واحد راستہ نہیں بلکہ کارگل کی برفیلی چوٹیوں سے لے کر میرپور کے گرم پہاڑوں تک چھ ایسے راستے ہیں جو دونوں حصوں کو ملاتے ہیں۔ راولا کوٹ کے ایک کپڑوں کے تاجر محمد صدیقی کا کہنا تھا کہ ’ ہم اپنی ضروریاتِ زندگی بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پونچھ سے لایا کرتے تھے۔ پونچھ 30 کلومیٹر دور ہے اور وہاں جانے میں صرف ایک گھنٹہ لگتا ہے۔‘ آج کل راولا کوٹ میں ضروریاتِ زندگی پاکستانی شہر راولپنڈی سے لائی جاتی ہیں جہاں چار گھنٹے کے سفر کے بعد پہنچا جا سکتا ہے۔ فی الحال سری نگر- مظفر آباد بس سروس صرف کشمیریوں کے لیے میسر ہے۔ اس بارے میں ایک ہوٹل کے مالک کا کہنا تھا کہ ’ اگر یہ بس سروس تمام پاکستانیوں کے لیے کھل جائے تو بذریعہ سڑک 9 گھنٹے میں اسلام اباد سے سرینگر پہنچا جا سکتا ہے جبکہ نئی دہلی سے سری نگر جانے میں 24 گھنٹے لگتے ہیں۔‘ یہ خواہشات نئی نہیں ہیں اور گزشتہ پچاس برس سے لوگوں کے دلوں میں موجود ہیں تاہم اس بس سروس نے ان خواہشات کو ایک نئی زندگی ضرور دے دی ہے۔ بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر بس سروس جاری رہتی ہے تو بہت سے کشمیری اپنی آئینی حیثیت کی پرواہ کیے بغیر خونی ماضی کو پرامن مستقبل سے بدلنا چاہیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||