سہولت یا توجہ ہٹانے کی کوشش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سات اپریل سے سری نگر اور مظفر آباد کے درمیان شروع کی جانے والی بس سروس نے کشمیریوں میں ایک نئی بحث کا آغاز کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا کہ یہ بس سروس کشمیریوں کو سہولت دینے اور مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف ایک قدم کے طور پر شروع کی گئی ہے یا اس کا مقصد مسئلہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ بس سروس تو دونوں طرف منقسم خاندانوں کو ملانے کا ایک معاہدہ ہے تو کچھ کا خیال ہے کہ یہ بس سروس کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی ہے جسکا اصل مقصد عالمی دباؤ کو کم کرنا ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایسےکشمیریوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے جو کشمیر میں چلنے والی مختلف عسکری تحریکوں کے نتیجے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہجرت کرکے سرحد کے اس پار آگئے۔ مظفر آباد میں انہیں پار کے کشمیری یعنی سرحد پار سے آنے والے کشمیری کہا جاتا ہے۔ مظفرآباد میں انیس سو پینسٹھ میں چلنے والی تحریک کے نتیجہ میں آنے والے عبدالستار بھی مقیم ہیں جن کی عمر تقریبا ستر برس ہے۔ ان کے ماں باپ اور بہن بھائی ضلع بارہ مولا میں رہ گئے۔ یہاں انیس سو نوے کی تحریک کے بعد آنے والے تیس سالہ محمد صدیق بھی ہیں جو اُس پار اپنے گھر کا اصل مقام بتانا نہیں چاہتے۔
یہ دونوں افراد اپنے اپنے وقت میں کشمیر کی عسکری تحریکوں سے وابستہ رہے اور دو مختلف نسلوں کے نمائندے ہیں۔ سات اپریل سے ستاون سال میں لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف پہلی بار چلنے والی بس سروس کے بارے میں اور اس تناظر میں مسئلہ کشمیر کے بارے میں ان کی آراء کشمیریوں کے خیالات کے تنوع کی آئینہ دار ہیں۔ انیس سو پینسٹھ کے عسکریت پسند اور آج مظفرآباد میں کشمیری شالوں کے تاجر عبدالستار کہتے ہیں کہ وہ انیس سو پینسٹھ میں یہاں آئے تھے اور وہ بھارت واپس اس لیے نہیں گئے کہ وہاں کی حکومت انہیں نہ چھوڑتی۔ان کے سارے بہن بھائی بارہ مولا میں ہیں۔ عبدالستار کہتے ہیں کہ انکی زندگی کا سب سے بڑا دُکھ یہ ہے کہ وہ اس پار ہونے کی وجہ سے اپنے باپ کے جنازہ میں شریک نہ ہوسکے اور اپنے بھائیوں کے جنازہ کو کندھا نہ دے سکے۔ عبدالستار کہتے ہیں کہ کیا یہ ظلم کی انتہا نہیں کہ اگر کوئی شخص ہزاروں میل دور امریکہ میں رہتا ہو اور اس کا کوئی رشتے دار مر جائے تو وہ اس کے جنازہ میں شریک ہوسکتا ہے لیکن کشمیری چند سو میل کے فاصلہ پر ہوتے ہوئے اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے نہیں مل سکتے، ان کے جنازے میں نہیں شریک ہو سکتے، اس سے بڑھ کرکیا ظلم ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جو یہ کہتے کہتے مر گئے کہ انہیں اپنے عزیزوں کی خوشی اور غم میں شریک ہونے دیا جائے۔ انہوں نے بس سروس سے جانے کے لیے پرمٹ کے لیے درخواست دے رکھی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں صرف ایک تمنا ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے ملیں اور کچھ نہیں۔ وہ یہاں پر پیدا ہونے والے اپنے بیٹے بیٹیوں کو بھی بارہ مولا لے جانا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ جانا تو چاہتے ہیں لیکن یہ سوچتے ہیں کہ کس منہ سے وہاں جائیں گے کہ ہم کہتے تھے کشمیر بنے گا پاکستان اور لوگ ہمیں منع کرتے تھے لیکن ہم باز نہیں آئے کیونکہ ہمارا جوان خون تھا۔ بزرگ عسکریت پسند کا کہنا ہے کہ یہ خالی بس ہی ہے آزادی تو نہیں ملی کشمیریوں کو۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اسی طرح ایک مہینہ میں دو مرتبہ بس چلے گی تو سب کشمیریوں کو اپنے عزیزوں سے ملنے کے لیے بس پر باری آنے میں ستاون سال سے بھی زیادہ لگ جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ’ستاون سال بس چلنے میں لگ گئے اور ستاون سال باری آنے میں لگ جائیں گے‘۔
دوسری طرف انیس سو نوے میں آنے والے عسکریت پسند محمد صدیق ہیں جن کے سب عزیز رشتے دار سرحد کے دوسری طرف ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ کشمیریوں نے تحریک میں قربانیاں اس لیے نہیں دیں تھیں اور اپنے قرابت داروں سے دوری اس لیے برداشت نہیں کی تھی کہ اس کا حاصل بس سروس ہو بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ مسئلہ کشمیر حل ہو اور کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق آزادی ملے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں پرمٹ مل بھی جائے تو وہ اس بس سے قطعاً سری نگر نہیں جائیں گے جب تک انہیں یقین نہ ہوجائے کہ بھارت کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے میں مخلص ہے اور اس کی فوجیں وہاں سے نہیں چلی جاتیں۔ نوجوان محمد صدیق کا موقف ہے کہ بس سروس چلا کر بھارت اپنے پر سے عالمی دباؤ کم کرنا چاہتا ہے اور اس مسئلہ کو نیا رخ دینا چاہتا ہے اور کشمیریوں کو دکھانا چاہتا ہے کہ ان کی پندرہ سال سے قربانیاں صرف اس بس سروس کے لیے تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بس سروس بھی بھارت نے اس لیے چلائی ہے کہ اس پر عسکریت پسندوں نے دباؤ ڈالا ہے اور اسے ٹالنا چاہتا ہے۔ تاہم عمر رسیدہ عبدالستار کو اب عسکریت سے زیادہ خدا کی مدد پر بھروسہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوگا بھارت اور پاکستان دونوں عذاب میں رہیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے اگر کشمیریوں پر ظلم کیا ہے تو پاکستان کشمیریوں کے وکیل سے فریق بن گیا ہے۔’خدا ان دونوں کو نہیں چھوڑے گا۔ اس کا حل یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی فوجیں کشمیر سے نکل جائیں اور اسے اقوام متحدہ کے سپرد کردیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||