بس کے راستے پر دھماکہ، سات زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان چلنے والی بس کے مجوزہ راستے پرایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ہانجی ویرا نامی گاؤں کے نزدیک پیش آیا۔ پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ بارودی سرنگ کو مٹی میں دبایا گیا تھا۔ دھماکے کے بعد علاقے کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی۔ پاکستان اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تاریخی بس سروس کا آغاز جمعرات سے ہو رہا ہے۔ اس سے قبل بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے حکام نے بتایا تھا کہ بھارتی فوجیوں نے بس کے مجوزہ راستے پر نصب دو بارودی سرنگوں کا ناکارہ بنا دیا ہے۔ یہ بارودی سرنگیں سری نگر سے پچیس کلومیٹر دور پلہالن نامی گاؤں کے نزدیک نصب کی گئی تھیں۔ اس واقعے کے متعلق پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ یہ بارودی سرنگیں نہایت طاقتور تھیں اور زمین کھود کر نصب کی گئی تھیں۔ ان بارودی سرنگوں کا وزن باترتیب ستّر اور ساٹھ کلو گرام تھا اور ان کے ناکارہ کیے جانے سے ایک بڑی تباہی کا خطرہ ٹل گیا ہے۔‘ الناصرین، کشمیر بچاؤ تحریک، العارفین اور فرزندانِ ملت نامی چار علیحدگی پسند گروہوں نے اپنی تازہ ترین دھمکی میں ایک بار پھر کشمیریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس بس پر سفر نہ کریں۔ مقامی پریس کو جاری کی گئی ایک پریس ریلیز میں ان تنظیموں نے کہا ہے کہ سرینگر مظفرآباد بس ہندوستان کی حکومت کی سازش کا نتیجہ ہے اور اس کے ذریعے وہ کشمیر کے اصل مسئلہ سے لوگوں کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ ان گروہوں نے اپنی دھمکی میں بس کے ڈرائیور کو بھی خبر دار کیا ہے اور کہا ہے کہ جو لوگ پاکستان کا سفر کرنا چاہتے ہیں وہ واہگہ کے راستے پاکستان جائیں۔ سری نگر سے چلنے والی بس پر چوبیس مسافر سفر کریں گے اور اس بس کے ہمراہ ایمبولینس اور بکتر بند گاڑیاں بھی اس راستے پر سفر کریں گی۔ یاد رہے کہ بھارتی حکومت نے اکیس مسافروں کو جان کے خطرے کے سبب حفاظتی تحویل میں لے لیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||