BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 April, 2005, 09:34 GMT 14:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بس سروس، اسمبلی میں ہنگامہ
کشمیری رہنما
سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس 7 اپریل سے شروع ہوگی
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پاکستان کی طرف سے کشمیری رہنماؤں کو سری نگر- مظفر آباد بس پر سفر کرنے کی اجازت نہ دینے پر جموں اسمبلی کے اجلاس میں ہنگامہ ہو گیا۔

پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان پچپن سال بعد سات اپریل کو بس سروس دوبارہ شروع کی جا رہی ہے۔

جموں کی حکومت نے دس کشمیری رہنماؤں کی ایک فہرست پاکستان کو بھیجی تاکہ وہ بس کے آغاز کے موقع پر سفر کر سکیں۔ ان رہنماؤں میں ڈپٹی وزیر اعلیٰ منگت رام شرما اور حزب اختلاف کے رہنما عمر عبداللہ بھی شامل ہیں۔

سنیچر کے اجلاس میں حزب اختلاف نے پاکستان کے اس اقدام کو ’ریاست کے منتخب اراکین کی توہین‘ قرار دیا۔ اس ہنگامے کی وجہ سے جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سید کو مجبوراً ایک بیان دینا پڑا جس میں انہوں نے پاکستان کے اس فیصلے کو ’بدقسمتی‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سے پاکستانی حکومت کی بے بسی ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دیکھا جائے تو بس سروس سے کشمیری مسئلہ کے حل کے لیے ایک اچھا اثر پڑے گا۔

تاہم حزب اختلاف اس بیان سے مطمئن نہیں ہوئی جس کی وجہ سے اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد