منگل کودستاویزات کا تبادلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام منگل کو لائن آف کنڑول پر سرینگر اور مظفرآباد کے درمیان چلنے والی بس سروس کے ذریعے ممکنہ سفر کرنے والوں کی فہرستیں اور ان کے درخواست فارم کا تبادلہ کریں گے۔ ان دستاویزات کا تبادلہ چکوٹھی کے مقام پر ہوگا۔ حکومت پاکستان نےمظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر کو دستاویزات کے تبادلے کے لیے نامزد کیا ہے۔ مظفرآباد کے ڈپٹی کشمنر لیاقت حسین چوہدری پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے پنتالیس ممکنہ مسافروں کی دستاویزات منگل کے روز بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے حوالے کرنے والے ہیں۔ توقع ہے کہ اسی تعداد میں سرینگر سے مظفرآباد سفر کرنے والوں کی دستاویزات مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر کے حوالے کی جائیں گی ۔ اس کے بعد دونوں طرف سے ممکنہ مسافروں کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کرکے مجاز اتھارٹی مسافروں کو پرمٹ یا خصوصی اجازت نامہ جاری کرے گی تاکہ دونوں طرف کے یہ مسافر 7 اپریل کو پہلی بس میں سفر کر سکیں۔ حکام کا کہنا ہے پہلی بس میں دونوں طرف سے تیس تیس لوگ ہی سفر کریں گے لیکن یہ واضح نہیں ہے کون اتھارٹی کس طرف کے مسافروں کو پرمٹ جاری کرے گی اور ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ اس اجازت نامے پر ہندوستان اور پاکستان کے حکومتوں کی مہر لگے گی یا کہ دونوں طرف کے کشمیر کی حکومتوں کی مہر ہوگی۔ بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے کنٹرول میں کشمیر کے علاقوں کو مقبوضہ علاقے تصور کرتے ہیں۔ اس سفر کے لیے ویزہ کے بجائے خصوصی پرمٹ یا اجازت نامے جاری کیے جائیں گے۔ اس کے لیے بھارت نے سرینگر میں ریجنل پاسپورٹ آفیسر کو اختیار دیا ہے جبکہ حکومت پاکستان کی طرف سے مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر اس مقصد کے لیے نامزد افسر ہیں اور انہی کو دستاویزات کے تبادلے کا اختیار دیا گیا ہے تاہم یہ معلوم نہیں کہ آیا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی طرف سے ریجنل پاسپورٹ آفسر ہی منگل کے روز درخواست فارم کا تبادلہ کریں گے یا نہیں۔ ہندوستان اور پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ابتدائی طور پر مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان ایک مہینے میں دو بسیں چلائی جائیں گی۔ جن بسوں میں مسافر سوار ہونگے وہ بسیں لائن آف کنڑول عبور نہیں کرسکیں گی البتہ مسافر لائن آف کنڑول پر بسوں سے نیچے اترکر گے پیدل لائن آف کنڑول عبور کرکے دوسری بس میں سوار ہوکر آ گے کا سفر کریں گے۔ گزشتہ ماہ ہندوستان اور پاکستان کے حکام نے دونوں کشمیر کے درمیان بس سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 1947 میں کشمیر کے معاملے پر پہلی جنگ کے باعث کشمیر کے دونوں طرف آمدورفت بند ہوگئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||