مظفرآباد بس سروس کوئی خطرہ نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعظم من موہن سنگھ نے حزب اختلاف کے اندیشوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے کہ سری نگر مظفرآباد بس سے سلامتی کے لیے کوئی خطرہ ہے۔ راجیہ سبھا یعنی ایوان بالا میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا کہ پاسپورٹ کی جگہ پرمٹ نظام اختیار کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی اور اس سے سلامتی کے لیے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے بعض پاکستانی شہریوں کا حوالہ بھی دیا جو موہالی کا ٹیسٹ میچ دیکھنے کے بعد واپس پاکستان نہیں لوٹے۔ مسٹر من موہن سنگھ نے کہا کہ پرمٹ سسٹم اختیار کرنے کا فیصلہ خفیہ ایجنسیوں اور سلامتی کے اداروں سے صلاح و مشورے کے بعد کیا گیا تھا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سری نگر مظفرآباد بس سروس کا ایک انسانی پہلو بھی اور حکموت نے اس سلسلے میں تمام فیصلے مسائل کے انسانی پہلو کو مد نظر رکھ کر کیے ہیں ۔’ ہم بنیادی طور پر سرحد کے دونوں جانب منقسم خاندانوں کے انسانی مسائل پر توجہ دے رہے ہیں ۔اس سے جموں کشمیر ریاست کے سوال پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا گیا ہے۔‘ حزب اختلاف کے ارکان ان کے جواب سے مطمئن نہیں تھے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ پاسپورٹ اور ویزا سسٹم بنائے جانے سے کیا سیاسی یا سفارتی فائدہ ہوا ہے۔ ہنگامہ آرائی کے سبب ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی ۔ اس سوال پر ایوان میں مفصل بحث کی توقع ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||