BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 March, 2005, 08:28 GMT 13:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مظفرآباد بس سروس کوئی خطرہ نہیں

حزب اختلاف نے بس سروس پر اعتراضات کیے ہیں
حزب اختلاف نے بس سروس پر اعتراضات کیے ہیں
وزیر اعظم من موہن سنگھ نے حزب اختلاف کے اندیشوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے کہ سری نگر مظفرآباد بس سے سلامتی کے لیے کوئی خطرہ ہے۔

راجیہ سبھا یعنی ایوان بالا میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا کہ پاسپورٹ کی جگہ پرمٹ نظام اختیار کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی اور اس سے سلامتی کے لیے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔

اس سلسلے میں سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے بعض پاکستانی شہریوں کا حوالہ بھی دیا جو موہالی کا ٹیسٹ میچ دیکھنے کے بعد واپس پاکستان نہیں لوٹے۔

مسٹر من موہن سنگھ نے کہا کہ پرمٹ سسٹم اختیار کرنے کا فیصلہ خفیہ ایجنسیوں اور سلامتی کے اداروں سے صلاح و مشورے کے بعد کیا گیا تھا ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سری نگر مظفرآباد بس سروس کا ایک انسانی پہلو بھی اور حکموت نے اس سلسلے میں تمام فیصلے مسائل کے انسانی پہلو کو مد نظر رکھ کر کیے ہیں ۔’ ہم بنیادی طور پر سرحد کے دونوں جانب منقسم خاندانوں کے انسانی مسائل پر توجہ دے رہے ہیں ۔اس سے جموں کشمیر ریاست کے سوال پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا گیا ہے۔‘

حزب اختلاف کے ارکان ان کے جواب سے مطمئن نہیں تھے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ پاسپورٹ اور ویزا سسٹم بنائے جانے سے کیا سیاسی یا سفارتی فائدہ ہوا ہے۔ ہنگامہ آرائی کے سبب ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی ۔

اس سوال پر ایوان میں مفصل بحث کی توقع ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد