BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 March, 2005, 09:02 GMT 14:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نچلی سطح پر مذاکرات بے سود ہیں‘

صرف میچ دیکھنے بھارت نہیں جا رہا: مشرف
صرف میچ دیکھنے بھارت نہیں جا رہا: مشرف
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ نچلی یعنی افسران کی سطح پر نہیں بلکہ دونوں ملکوں کی اعلیٰ ترین قیادت کے درمیان براہراست مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوسکتا ہے۔

(جنرل پرویز مشرف کے اس انٹرویو کا مفصل حصہ آپ منگل پندرہ مارچ کو سیربین میں سن سکتے ہیں۔)

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر نے کہا ’جو سمجھتے ہیں کہ نچلی سطح پر کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا وہ بے وقوفی اور بیکار بات ہے۔‘

صدر نے زور دیا کہ نچلی سطح پر معاملات آگے نہیں چلیں گے اور آج سیکریٹری سطح پر ملاقات کے باوجود وزراء کی سطح پر پھر ملاقات ہوتی ہے اور کل یہ معاملہ ڈپٹی سیکریٹری اور جوائنٹ سیکریٹری کی سطح تک چلا جائے گا تو کبھی حل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائن ایک شیشے کی دیوار ہے جسے ختم کیا جائے تاکہ لوگ آپس میں ملیں اور زیادہ مقامات سے آنے جانے کی سہولت دینی چاہیے۔

سرینگر سے مظفر آباد تک بس سروس کے شروع کیے جانے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے کافی لچک کا مظاہر کیا ہے۔

صدر نے بتایا کہ انہوں نے بھارت کو تجویز دی ہے کہ پونچ سے راولا کوٹ اور جموں سے سیالکوٹ تک بھی دو مزید راستے کھلنے چاہیں اور ان تجاویز پر انہیں بھارت کے جواب کا انتظار ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے آپس میں رابطے بڑھنے سے ماحول بہتر ہوگا اور اس سے مسائل حل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ کشمیر سمیت تمام مسائل حل کرنے کے لیے دونوں ممالک کی سنجیدگی کا اندازہ بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی اور ان کی جانب سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان سے لگایا جاسکتا ہے۔

لیکن صدر نے کہا کہ جب کافی وقت گزر گیا اور معاملات آگے نہیں بڑھ سکے تو انہیں نا امیدی پیدا ہوئی لیکن سرینگر سے مظفر آباد تک بس سروس کی بحالی نے امید پیدا کردی ہے۔

صدر نے بتایا کہ وہ کرکٹ میچ دیکھنے بھارت جائیں گے لیکن ان کا دورہ صرف میچ کے لیے نہیں ہوگا بلکہ وہ بھارتی وزیراعظم سے بھی ملیں گے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت کریں گے۔

اپنے دورے سے ہٹ کر صدر نے بتایا کہ ان کی والدہ نجی دورے پر بدھ کو دلی روانہ ہورہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی والدہ کے دورے کا سیاست یا سفارتکاری سے کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ وہ علیگڑھ یونیورسٹی، جہاں وہ پڑھی تھیں، جانا چاہتی ہیں۔ ان کے ہمراہ صدر کے اٹلی سے آئے ہوئے بھائی اور امریکہ میں رہائش پذیر صاحبزادہ بلال مشرف بھی دلی جا رہے ہیں۔

خفیہ مذاکرات
کشمیر پر ہونے والی پس پردہ کوششوں کی تاریخ
من موہن سنگھبڑھتے ہوئے تعلقات
امریکی سرمایہ کاری، بھارت اصلاحات کرے
کشمیرمذاکرات کے تانے بانے
کشمیر کا ماضی و حال، جائزہ آصف جیلانی
پاک بھارت مستقبل
حساس معاملات پر احتیاط زیادہ ہے یا گریز؟
مذاکراتتوقعات اور حقائق
مذاکرات کے ایک اور دور کا پیر سے آغاز
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد