BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 November, 2004, 09:58 GMT 14:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر پر پس پردہ مذاکرات کی تاریخ

News image
کشمیر کی تقسیم پر ماضی میں بھی بات ہوتی رہی ہے۔
عام طور یہ کہا جاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پچھلے ستاون برس میں صرف اس وجہ سے حل نہیں ہو سکا کہ اس مسئلہ پر ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے موقف غیر متزلزل طور پر اٹل ہیں اور ایک نہیں بلکہ کئی سمندر ان موقفوں کے درمیان حائل ہیں۔

ہندوستان کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ یعنی جزو لاینفک قرار دیتا ہے اور پاکستان کا موقف ہے کہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قرارداوں کے مطابق استصواب رائے سے حل ہو نا چاہئے۔ لیکن اب امریکی اور برطانوی حکومتوں کی خفیہ دستاویزات اور جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل کے کاغذات اور مراسلات کی اشاعت کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے اپنی اپنی حکومتوں کے اعلانیہ موقفوں کے پس پردہ کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لئے طرح طرح کی تدابیر اور تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا تھا اور اس مسئلہ کواپنے اعلانیہ موقفوں سے بالکل ہٹ کر حل کرنے کی کاوشیں کی تھیں۔

یہ سلسلہ ہندوستان کی آزادی اور پاکستان کے قیام کے فورا بعد ہی شروع ہوگیا تھا سن سینتالیس کی کشمیر کی لڑائی سے بھی بہت پہلے۔

برصغیر کی عصری تاریخ کے مبصروں کی رائے میں دونوں ملکوں نے اپنی آزادی کے سفر کے آغاز ہی پر پرامن مستقبل کا زریں موقع اس وقت ہاتھ سے گنوا دیا تھا جب یکم نومبر انیس سو سینتالیس کو لاہور میں ایک ملاقات میں ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ ماونٹ بیٹن نے بانی پاکستان محمد علی جناح کو تحریری طور پر کشمیر، حیدر آباد اور جونا گڑھ میں استصواب رائے کی پیش کش کی تھی۔ جناح صاحب نے یہ پیشکش فی الفور ٹھکرا دی۔ لارڈ ماونٹ بیٹن نے یہ پیشکش جواہر لال نہرو کی ایما پر پیش کی تھی کیونکہ یہی پیشکش جواہر لال نہرو نے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے ساتھ دلی میں ایک ملاقات کے دوران دہرائی تھی۔ اس بات کا انکشاف سن اکہتر میں سردار پٹیل کے شائع ہونے والی مراسلات میں کیا گیا ہے۔

News image
انڈیا نے حال میں کشمیر میں فوج میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

پھر بیس روز بعد اٹھائیس نومبر کو دلی میں ایک اجلاس میں جس میں لارڈ ماونٹ بیٹن، سردار پٹیل ، لیاقت علی خان، اور غلام محمد شامل تھے، جواہر لال نہرو نے استصواب رائے کےلئے کشمیر کو چار واضح علاقوں میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ وادی کشمیر ، پونچھ بشمول میر پور ، جموں اور گلگت ایجنسی- اور اکیس دسمبر سن سینتالیس کے اجلاس کی روئیداد کے مطابق، پنڈت نہرو نے مسٹر لیاقت علی کو یقین دلایا کہ حکومت ہندوستان یو این او کے تحت منصفانہ اورغیر جانبدارانہ استصواب رائے کے انعقاد کی پالیسی ہرگز ترک نہیں کرے گی۔ اس دوران جناح صاحب نے یہ ہدایت جاری کی کہ کشمیر کے بارے میں تصفیہ کی شرائط کے سلسلہ میں ان کی منظوری کے بغیر کوئی پیمان نہ کیا جائے۔

لیاقت علی اور پاکستان کی کابینہ نے اس ہدایت کی پاس داری کا وعدہ کیا۔

غالبا اسی کا ذکر ذوالفقار علی بھٹو نے ستائیس نومبر سن بہتر کو لنڈی کوتل کے ایک جرگہ میں اس طرح کیا تھا کہ سردار پٹیل نے حیدر آباد اور جونا گڑھ کے عوض کشمیر پاکستان کو دینے کی پیش کش کی تھی لیکن پاکستان نےاسے قبول نہیں کیا اور نتیجہ یہ کہ نہ صرف یہ تینوں ریاستیں ہاتھ سے نکل گئیں بلکہ ملک مشرقی پاکستان بھی گنوا بیٹھا۔

برطانوی خفیہ دستاویزات کے مطابق سن انیس سو اننچاس میں دلی میں برطانیہ کے ہائی کمشنر آرچی بالڈ نائی نے نہرو سے ملاقات کی تھی جس میں کشمیر کے مسئلہ پر گفتگو ہوئی تھی اس گفتگومیں نہرو نے یہ کہا تھا کہ وہ اس بنیاد پر کشمیر کا مسئلہ حل کرنا چاہیں گے کہ مغربی کشمیر پاکستان کے حوالہ کر دیا جائے اور جموں اور لداخ ہندوستان کے۔ اور صرف وادی میں استصواب رائے کرایا جائے۔ برطانوی ہائی کمشنر ارچی بالڈ نائی نے اس کی اطلاع اپنی حکومت کو اپنے ایک مراسلہ میں کی تھی۔

News image
پنڈت نہرو اپنی زندگی میں کشمیر کا مسئلہ حل کرنا چاہتے تھے۔

مئی سن باون میں ہندوستان میں امریکی سفیر چسٹر باولز نے واشنگٹن کو مطلع کیا تھا کہ ہندوستان کشمیر کی تقسیم کی تجویز پر غور کرنے کے لئے تیار ہے بشرطیکہ پاکستان اس پر راضی ہو۔

اگست سن ترپن کو دلی میں پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرا اور نہرو کی ملاقات میں یہ طے ہوا تھا کہ استصواب رائے کا ناظم اپریل سن چون تک مقرر کر دیا جائے گا۔ اور دس اگست سن تریپن سے اکیس ستمبر سن چون تک دونوں ملکوں کے درمیان اسی مسئلہ پر ستائیس مراسلوں کا تبادلہ ہوا اور جب امریکہ کی طرف سے پاکستان کو فوجی امداد کا اعلان ہوا تو نہرو استصواب کے وعدہ سے یکسر منحرف ہو گئے اور محمد علی بوگرا بھی قطعی مایوس ہوگئے۔

نہرو میموریل فنڈ نے نہرو کی دستاویزات کی جو اٹھایسویں جلد شائع کی ہے اس سے انکشاف ہوتا ہے کہ پاکستان کو امریکی فوجی امداد کا تو محض ایک جواز تھا دراصل نہرو نے سن اڑتالیس ہی میں استصواب رائے کا خیال ترک کردیا تھا اور وہ جنگ بندی لائن کی بنیاد پر چند ردوبدل کے ساتھ کشمیر کی تقسیم کے حق میں تھے۔

یہ بات جنوری سن پچپن کی ہے جب پاکستان کے گورنر جنرل غلام محمد دلی آئے اور ہوائی اڈہ پر نہرو کو ایک لفافہ دیا جس میں ایک چھوٹا کاغذ تھا جس پر کشمیر کے مسئلہ کے تصفیہ کے لئے چار نکاتی فارمولا تجویز کیا گیا تھا- پہلا نکتہ یہ تھا کہ پونچھ ، ریسی اور ادھم پور سمیت جموں کا ایک بڑا حصہ پاکستان کو منتقل کر دیا جائے۔ دوسرا نکتہ یہ تھا کہ اسکردو ہندوستان کے حوالہ کردیا جائے۔ تیسرا نکتہ یہ تھا کہ کارگل وادی کشمیر میں شامل کر کے اس علاقہ کو مستقبل کے فیصلے تک ہندوستان اور پاکستان کے سیاسی اور فوجی مشترکہ کنٹرول میں دے دیا جائے اور چوتھا نکتہ یہ کہ اگلے پانچ اور بیس برس کے دوران وادی کشمیر میں کسی قسم کا استصواب کرایا جائے۔

جواہر لال نہرو نے غلام محمد کا یہ فارمولا مسترد کر دیا کہ ہندوستان اسکردو کے پہاڑی علاقہ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا اور کشمیر کے مشترکہ کنٹرول کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

البتہ چودہ مئی سن پچپن کو جب دلی میں پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرا اور وزیر داخلہ سکندر مرزا کی نہرو سے ملاقات ہوئی تو باقاعدہ نقشے سامنے رکھ کر اور مسلم اور ہندو اکثریت والے علاقوں کی مختلف رنگوں میں نشان دہی کی گئی تھی۔ جنگ بندی کے شمال کے علاقہ کو سفید رکھا گیاتھا- سیاچن اس زمانہ میں نو مینز لینڈ تھا۔

نہرو البتہ فرقہ وارانہ بنیاد پر کشمیر کی تقسیم کے خلاف تھے تاہم وہ جنگ بندی لائن کی بنیاد پر جموں کشمیر کی تقسیم کے حق میں تھے اور جہاں مولانا ابوالکلام آزاد نے میرپور کے چند علاقے پونچھ میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی وہاں نہرو کا خیال تھا کہ کشن گڑھ دریا ایک مناسب سرحد ہو سکتی ہے اور پونچھ کا علاقہ پاکستان کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔

نہرو نے زور دیا تھا کہ اسی ملاقات میں قطعی سمجھوتہ ہو جائے جس پر سکندر مرزا نے کہا کہ اگر اس بنیاد پرکشمیر کاسمجھوتہ طے ہو تو پاکستان میں کوئی حکومت چوبیس گھنٹے تک نہیں رہ سکتی۔ اس کے جواب میں نہرو نے کہا کہ ایسی ہی مشکل دوسری طرف پیدا ہوسکتی ہے اور نہرو نے ہندوستان کے آئین کا حوالہ دیا جس میں چودہ مئی سن چون کا صدارتی حکم شامل ہے جس کے تحت کشمیر کے علاقوں میں کوئی ردوبدل پارلیمنٹ کشمیر کی ریاستی اسمبلی کی منظوری کے بغیر نہیں کر سکتی۔

سن تریسٹھ اور چونسٹھ میں ذوالفقار علی بھٹو اور سورن سنگھ کے درمیان کشمیر کے مسلہ کے حل کی تلاش کے لئے جو طویل مذاکرات ہوئے تھے ان میں بھی کشمیر کی تقسیم کی تجاویز پر غور کیا گیا تھا۔ ان مذاکرات میں استصواب رائے کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ امریکی حکومت نے ان مذاکرات کے لئے باقاعدہ ایک دستاویز تیار کی تھی جس کا عنوان تھا ، ایلیمنٹس آف اے سیٹلمنٹ۔ اس دستاویز میں زور دیا گیا تھا کہ دونوں ملکوں کو وادی میں بھر پور پوزیشن ہونی چاہئے۔ لداخ ہندوستان کو اور ریاسی اور چناب کا طاس پاکستان کو ملنا چاہئے۔

اس دستاویز کے تحت سری نگر کے نزدیک چھوٹی جھیلیں ہندوستان کے کنٹرول میں جاتیں اور وولر جھیل اور چناب کا ہیڈورکس پاکستان کو جاتا۔ یوں وادی کا شمال مغربی حصہ پاکستان کو جاتا ہندواڑہ ،اریاور ٹٹوال سمیت -سرحد بارہ مولا کے قریب آجاتی۔

سن چونسٹھ میں اپنے انتقال سے محض ایک ماہ قبل جب جواہر لال نہرو نے لوک سبھا میں اعلان کیا کہ وہ شیخ عبداللہ کو پاکستان بھیج رہے ہیں تو میں وہیں تھا۔ ایک نہایت اہم بات نہرو نےاس وقت کہی تھی کہ وہ کشمیر کے لئے آئینی انتظامات چاہتے ہیں- اس وقت اس بات پر کسی نے کوئی خاص دھیان نہیں دیا- میں اس وقت بمبئی میں تھا جب نہرو نے اپنے انتقال سے چند دن قبل آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں یہی بات دہرائی تھی۔

اس اجلاس میں نہرو بہت علیل تھے اور پورے وقت ایک کاؤچ پر لیٹے رہے۔

اجلاس میں نہرو کو شیخ عبداللہ کی رہائی اور انہیں پاکستان بھیجنے پر سخت نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑا۔ نہرو ضبط نہ کر سکے اور مائیکروفون پکڑ کر اس کے سہارے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے نہایت غصہ میں کہا کہ سولہ سال ہوگئے ابھی تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوا۔ میں نے اس مسئلہ کے حل کے لئے پہل کی ہے اور میں نے شیخ عبداللہ کو پاکستان بھیجا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی آئینی انتظام ہو۔ ان کے ذہن میں کیا آئینی انتظام تھا اس وقت اس کی انہوں نے وضاحت نہیں کی اور چند دن بعد وہ انتقال کر گئے۔

جس وقت نہرو کا انتقال ہوا اس وقت شیخ عبداللہ صدر ایوب خان سے بات چیت کر رہے تھے۔

اور ہندوستان اور پاکستان کی کنفیڈریشن کی تجویز زیر غور تھی جو شیخ عبداللہ نے نہرو کی ایما پر راج گوپال اچاریہ کے مشورہ سے مرتب کی تھی۔ اس کے تحت کشمیر کو پاکستان اور ہندوستان کے مشترکہ کنٹرول میں دینے کی تجویز تھی جس کے دفاعی اور خارجہ امور دونوں ملکوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوتے اور لائن آف کنٹرول دونوں ملکوں کی باقاعدہ سرحد تسلیم کی جاتی اور عملی معنوں میں ایک مکمل کنفیڈریشن تشکیل کی جاتی۔ لیکن صدر ایوب ٹھٹھک گئے اور انہوں نے کنفیڈریشن کی تجویز مسترد کر دی۔ ویسے بھی نہرو انتقال کر گئے تھے۔ اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اسی سال جولائی میں صدر ایوب کو دلی آنے کی دعوت دی تھی وہ بھی حقیقت کا روپ نہ دھار سکی۔

اس بات کا بھی حال میں انکشاف ہوا ہے کہ سن پینسٹھ میں ہندوستان پاکستان کی جنگ سے صرف تین ماہ قبل وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے اپنا ایک ایلچی صدر ایوب کے پاس خفیہ طور پر بھیجا تھا اور لائن آف کنٹرول کی بنیاد پر ردوبدل کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔

یہ بات لال بہادر شاستری کی پرنسپل سیکریٹری کے ایل جھا نے دلی میں برطانوی ہائی کمشنر جان فری مین کو بتائی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ پہلے یہ جنگ تین جولائی کو شروع کرنے کا منصوبہ تھا لیکن شاستری کی اسی کوشش کے پیش نظر حملہ ستمبر تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔

پچھلے دنوں پاکستان کے صدر جنرل مشرف نے پہلے یہ اشارہ دیا کہ وہ استصواب رائے کے بارے میں پاکستان کے موقف کو درگزر کر کےکشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے تیار ہیں پھر کچھ عرصہ بعد اب انہوں نے کشمیر کی سات جغرافیائی ، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم اور ان کی آزادی اور خود مختاری اور مشترکہ تحویل کی بنیاد پر کشمیر کے تنازعہ کے تصفیہ کی تجاویز پیش کی ہیں۔ گو ہندوستان کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے فی الفور اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے لیکن پاکستان کو توقع ہے کہ اس پر ہندوستان سے بامعنی بات چیت ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ تیئس نومبر کو دلی میں پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز جو ڈاکٹر من موہن سنگھ سے ملیں گے تو اسی بنیاد پر بات چیت ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد