’یکطرفہ پیچھے نہیں ہٹیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیر پر اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا اور نہ ہی وہ کسی صورت میں یکطرفہ طور پر اس سے دستبردار ہوگا۔ انہوں نے صاف الفاظ میں کشمیر کو دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازعہ قرار دیااور کہا کہ ’ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ملک آگے بڑھیں اور ان کی ملاقات بیچ راستے میں ہو‘۔ وہ لاہور میں سارک ممالک کی علاقائی تنظیم ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ہونے والی ایک دو روزہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس کانفرنس کا موضوع تھا ’ذرائع ابلاغ اور جنوبی ایشیاء میں امن‘۔ صدر مشرف نے کہا کہ تنازعہ کشمیر پر ان کی متبادل تجاویز کا مقصد مسئلے کا قطعی یا حتمی حل پیش کرنا نہیں تھا بلکہ صرف ایک متبادل حکمت عملی کی طرف اشارہ کرنا مقصود تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی لگی لپٹی یا سفارتی لب ولہجہ اختیار کیے بغیر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان تجاویز پر بھارت کا ردعمل حوصلہ افزاء نہیں ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امید کرنی چاہیے کہ یہ محض ان کا گمان ہے اور دُور کہیں جو امید کی کرن دکھائی دے رہی تھی وہ ابھی بجھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تجاویز کے بارے میں بھارتی حکام نے کہا ہے کہ ’وہ افطار پارٹی پر ہونے والی گفتگو تھی‘ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی بات غور و خوص کے بغیر نہیں کہی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اکثر پوچھا جاتا تھا کہ تنازعہ کشمیر کا متبادل حل کیا ہوسکتا ہے، چنانچہ جو تجاویز پیش کیں گئیں وہ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تھیں تاکہ جب بھی موقع ملے تو ان کی بنیاد پر بامعنی گفت و شنید ہوسکےلیکن اس سے ہرگز یہ مراد نہیں لینی چاہیے وہ مسئلے کا کوئی قطعی اور بامعنی حل تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’میرا مقصد یہ تھا کہ جغرافیائی، نسلی اور مذہبی بنیادوں پر ان خطوط کی نشاندہی کی جائے جن پر جموں وکشمیر مشتمل ہے اور پھر انہیں غیر فوجی علاقہ قرار دیدیا جائے اور بالآخر اس عمل کے نتیجے میں مسئلہ کے حل کی کوئی صورت پیدا ہوجائے‘۔ صدر مشرف نے کہا کہ ’یہ بات اہم ہے کہ پاکستان لچک کا مظاہرہ کرنے کے باوجود کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق چاہتا ہے لیکن پھر بھی اگر دونوں ممالک اتفاق کریں تو کسی مقام اتصال پر اتفاق ہو سکتا ہے‘۔ انہو ں نے کہا کہ ’ہم ہمیشہ کہتے رہے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں کشمیریوں کی شمولیت لازمی ہے‘ اور ’یہ طے ہے کہ جلد یا بدیر کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہی ہوگا اور یہ جتنی جلدی ہوسکے اتنا ہی بہتر ہے‘۔ انہوں نے دیگر بین الاقوامی امور پر بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ اسلامی ممالک کی تنظیم ’اوآئی سی‘ کی تشکیل نو کی جائے تاکہ مسلمان ممالک لیے ترقی و خوشحالی کی راہ ہموار ہوسکے۔ صدر مشرف نے کہا کہ افغانستان کے انتخابی عمل کو پاکستان کی مکمل مدد و حمایت حاصل رہی ہے اور اس لحاظ سے وہاں امن و صلح کے مقصد کو آگے بڑھانے میں اس نے کافی اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ’دہشت گردی‘ کے خاتمے کے لیے سیاسی اور عسکری دونوں طرح کی حکمت عملی سے کام لیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان میں جو بھی غیر ملکی ’دہشت گردی‘ پر مبنی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ان کا قلع قمع کیا جا سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||