ہمیں ملنے دیں: کشمیری پناہگزین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پناہ گزین کشمیریوں نے ہندوستان اور پاکستان کے حکمرانوں سے اپیل کی ہے کہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول کے دونوں جانب سے اپنی فوجوں کو پانچ کلو میڑ پیچھے ہٹالیں اور لائن آف کنڑول سے بٹے ہوئے خاندانوں کی ملاقاتوں کا اہتمام کریں۔ سن انیس سو اٹھاسی میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح علیحدگی کی تحریک کے آغاز سے اب تک حکام کے مطابق بیس ہزار سے زائد کشمیری لائن آف کنڑول عبور کرکے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آئے ہیں۔ ان کشمیری پناہ گزینوں کے عزیز و اقارب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہیں۔ کشمیری پناہ گزینوں کی طرف سے یہ اپیل ایک ایسے موقع پر کی گئی جب اگلے ہفتے بھارت اور پاکستان کے وزرائےاعظم دہلی میں ملاقات کرنے والے ہیں۔منقسم کشمیری خاندانوں کی طرف سے اس طرح کی تجویز پہلی مرتبہ آئی ۔ پناہ گزینوں کی ایک تنظیم جموں کشمیر ریفیوجی سپریم کونسل کے وائس چیرمین محمد اقبال اعوان نے کہا کہ گذشتہ پندرہ برسوں سے ہمیں اپنے عزیزوں کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے کہ وہ کس حال میں ہیں اور نہ ہی انہیں ہمارے بارے میں کوئی علم ہے کیونکہ ہمارے درمیان کسی طرح کا کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ہم ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک نہیں ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اتنی لمبی جدائی کے باعث ہم اپنے خاندان والوں کی شکلیں تک بھول چکے ہیں اور اپنے بچھڑے ہوئے عزیزوں سے ملنے کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ اعوان نے کہا کہ ’ہماری پاکستان اور ہندوستان کے حکمرانوں سے اپیل ہے کہ جب تک کشمیر کے تنازعے کا حتمی حل نہیں نکلتا اس وقت تک لائن آف کنڑول پر منقسم کشمیری خاندانوں کی ملاقاتوں کا جتنا جلدی ہو سکے عارضی طور پر انتظام کیا جائے‘۔ مسڑ اعوان نے کہا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے وزراء اعظم سے درد مندانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اگلے ہفتے دلی میں ہونے والی ملاقات میں اس کا باضابطہ اعلان کریں ۔ جموں کشمیر ریفیوجی سپریم کونسل ان پناہ گزینوں کی نمائندگی کرتی ہے ۔ یہ کشمیری پناہ گزین پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کی جانب سے کشمیر کے اس علاقے میں ان کے لیےقائم کئے گئے مختلف کیمپوں میں رہتے ہیں ۔ بہت سارے کشمیری پناہ گزین یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ بھارتی افواج کی طرف سے تشدد کے باعث پناہ کی خاطر کشمیر کے اس علاقے میں آئے۔ دسمبر میں ہندوستان اور پاکستان کے حکام مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان ممکنہ بس سروس شروع کرنے پر بات چیت کرنے والے ہیں ۔ اگر یہ بس سروس شروع ہوتی ہے تو منقسم کشمیری خاندانوں کو باہمی ملاقاتوں میں آسانی میسر آئے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||