ویب ملاقات کا دوسرا دن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لائن آف کنٹرول کے آر پار کشمیر کے بچھڑے ہوئے خاندان پہلی مرتبہ ویڈیو فون کے ذریعے ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں۔ یہ وڈیو فون کانفرنس بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے بچھڑے ہوئے کشمیریوں کے لیے منعقد کی ہے۔ سرینگر اور مظفرآباد کے درمیان ہونے والی اس وڈیو کانفرنس میں ہونے والی باتصویر بات چیت کو براہ راست بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ویب کاسٹ کیا جا رہا ہے۔ اس کانفرنس کا پہلا پروگرام پیر کو پیش ہوا جبکہ باقی دو بالترتیب بائیس جون بروز بدھ اور اور تئیس جون بروز جمعرات گرینچ کے وقت کے مطابق گیارہ بجے سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر براہ راست نشر کیے جائیں گے۔ عابدہ مسعود 1986 میں پاکستان آئی تھیں اور پیر کو انہوں نے سولہ سال بعد اپنی والدہ اور خاندان کے دوسرے افراد کو دیکھا۔ ویب کاسٹ دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں پیش ہے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی عابدہ مسعود، انکے شوہر اور انکی بیٹی فرح دیبا مسعود کی بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بسنے والے اپنے خاندان کے دوسرے افراد سے گفتگو کا کچھ احوال۔ ’اماں کیا حال ہے۔ بولو نا۔ آپ کیا کرتی ہیں بولو نا۔‘ ’دیبا نے یہ نقاب کیوں پہنا ہے۔ اسے کہو کہ نقاب اتارے ہم اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔‘ ’ابا جان آپ ہمارے لیے دعا کریں۔‘ ’پانچوں وقت نماز پڑھ کر دعا کرتا ہوں۔‘ ’آپ آتے نہیں ادھر۔‘ ’کوشش کریں گے۔ آ جائیں گے۔ آپ آ جاؤ۔‘ ’آپ کیوں نہیں کوشش کر کے یہاں آ جاتے بچوں کو لے کر۔‘ ’غلام محمد کو نئے گھر کی مبارکباد دیں۔ ان کا فون نمبر کیوں نہیں ملتا۔‘ ’نمبر بدل گیا ہے۔‘ ’نیا نمبر بتائیں۔‘ ’جب بھی آپ سے بات کرتے ہیں آپ رونا شروع کر دیتی ہیں۔ آپ بات کریں۔‘ ’کیا امی کا خیال رکھتی ہو؟‘ ’نہیں۔ جب آپ نہیں رکھتے، تو میں کیوں رکھوں۔‘ ’امی میں آپ سے ناراض ہوں۔‘ ’کیا کریں۔‘ ’خدا حافظ۔‘ ’آپ مجھ سے ملنے کیوں نہیں آتے؟ آپ تب سے بول رہے ہیں کہ آئیں گے اور میں تب سے انتظار کر رہی ہوں۔‘ ’آ جائیں گے۔ مگر خزاں میں۔ آج کل وہاں کی گرمی مجھ سے کہاں برداشت ہو گی۔‘ ’تم کتنی کمزور ہو گئی ہو۔‘ ’آپ نے جو کھلایا پلایا تھا، وہ تو سب ختم ہو گیا۔ اب کی بات ہی اور ہے۔‘ ’سنا ہے راستہ کھلنے والا ہے‘
میاں محمد صدیق انیس سو اننچاس میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے مظفرآباد آئے تھے۔ ان کے ایک بھائی اور دو بہنوں سمیت زیادہ تر عزیز آج بھی سری نگر میں ہی مقیم ہیں۔ انکے بھائی جموں و کشمیر کے سابق چیف جسٹس جلال الدین اور انکے خاندان کی میاں صدیق اور ان کے بیٹے شاہین صدیق سے 16 سال کے بعد ملاقات کا کچھ احوال۔ ’آپ سے 1988 میں ملاقات ہوئی تھی۔ اور اسکے بعد اب کر رہے ہیں۔ کافی خوشی ہو رہی ہے۔‘ ’کیا حال ہے؟‘ ’اللہ کا شکر ہے، سب ٹھیک ہے۔‘ ’عمران کیسا ہے؟‘ ’عمران کل کینیڈا چلا گیا ہے۔‘ ’آپ کے پیچھے کون ہے؟‘ ’میری بیٹی کفیلہ۔‘ ’میری دونوں بہنیں ٹھیک ٹھاک ہیں؟‘ ’سب ٹھیک ہے۔‘ ’آپ یہاں اسکے بعد آئے ہی نہیں۔‘ ’دیکھیں گے بھئی کیا ہوتا ہے۔ سنا ہے راستہ کھلنے والا ہے۔‘ ’اب آپ پروگرام بناؤ۔ اگر آپ آئیں گے تو آپ کی زیادہ لوگوں سے ملاقات ہو جائے گی۔‘ ’آپ ارادہ بنائیے سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘’ ’اب آپ جوان ہو گئے ہیں۔‘ ’اب تو ہم بوڑھے ہو گئے ہیں۔‘ ’بچے کتنے ہیں؟‘ ’ماشااللہ تین۔ بڑے کا نام عامر ہے۔‘ ’آپ نے آنا ہے۔‘ ’زندگی کا کوئی پتہ نہیں۔‘ ’مجھے لگ رہا ہے کہ میرا ماموں ایموشنل (جذباتی) ہو رہا ہے۔‘ ’آپ کی آنکھوں کا کیا حال ہے۔ آپکا آپریشن ہوا تھا۔‘ ’ویسے ہی ہیں۔‘ ’امی کے دانت ٹھیک ہو گئے ہیں کیا۔ آپ کے ماموں کا سنا بہت افسوس ہوا۔‘ ’آپ نے کب سنا؟‘ ’مجھے دبئی سے کال آئی تھی۔ شبیر نے دبئی سے کال کی تھی۔ جب وہ واقعہ ہوا تو شاہ صاحب کا فون اسی وقت آ گیا تھا۔‘ ’پرّے صاحب اکثر آپ کو یاد کرتے ہیں۔‘ ’انہیں میرا سلام کہنا۔‘ ’شکر ہے اللہ کا کہ آپ سے یہیں ملاقات ہو گئی۔‘ ’ویزہ کے لیے درخواست کیوں نہیں دی۔ دیں تو سہی۔‘ ’یہاں سے فون وہاں نہیں جاتا، آپ فون کیا کریں۔ آپ ذرا وہاں سے کوشش کریں۔‘ ’ہماری دونوں پھوپھیوں کو سلام کہیں۔ ہم انہیں بہت یاد کرتے ہیں۔ زندگی رہی تو آپ سے ملاقات ضرور ہو گی۔‘ ’ماموں آپ کی بہنیں آپ کو بہت یاد کرتی ہیں۔ خدا کی قسم سیریئسلی (سنجیدگی سے) بات کر رہا ہوں۔‘ ’کیا آپ بھی یاد کرتے ہیں۔‘ ’بہت کرتا ہوں۔ ماموں بھانجے کا رشتہ ہی ایسا ہے۔‘ ’اچھا زندگی رہی تو آپ سے ملاقات رہے گی۔‘ ’ہماری امید ہے کہ یہ سلسلے چلتے رہیں اور دوریاں مٹتی رہیں۔‘ ’ان سے کہیئے گا کہ انہوں نے بچھڑے ہوئے خاندانوں کو ملایا۔ ان کا شکریہ ادا کریں۔‘ ’خدا حافظ‘ ’خدا حافظ‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||