ویب ملاقات:’گڈ سٹوری‘ سے آگے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دریائے نیلم کے کنارے ایک چھوٹے سے کمرے میں تین دن تک بوڑھوں، جوانوں، مردوں اور عورتوں کی آنکھوں میں اپنے چاہنے والوں کی تصویروں دیکھتے ہوئے خوشی کے آنسو اور جدائی کا غم دیکھنے کے بعد ذہن میں ریاست، حکومت اور سیاست کے وہ تصورات جو لڑکپن میں ہر ایک کو پڑھائے جاتے ہیں کچھ گڈ مڈ سے ہوگئے۔ کس کا ملک؟ کون سی ریاست؟ کیسی حکومت؟ جو سیاسی ڈھانچے انسان نے خود اپنے لئے بنائے وہی اسے کس قدر قرب میں مبتلہ کر رہے ہیں۔ یا شاید میں ہی کچھ جذباتی ہو رہا ہوں۔ لیکن جذباتی کیوں نہ ہوں؟ تین دن تک جوان، بوڑھے، مردوں اور عورتوں کی آنکھوں میں آنسو دیکھنے کے بعد یقیناً دنیا کچھ مختلف سی لگتی ہے۔ کس ملک کا قومی مفاد کیسے داؤ پر لگ گیا، میں یہ سوچوں یا خواجہ صلاح الدین کی آنکھوں میں دیکھوں جو اپنی طرف سے جواں مردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آنسو روکتا ہے، لیکن پھر بھی اس کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ قوم پرستی، خود مختاری یا حاکمیت کے تصورات کی گتھی سلجھاؤں یا حفیضہ بیگم کو دیکھوں، جو ویڈیو رابطہ قائم ہو نے سے پہلے ہی اس خیال میں رونا شروع کر دیتی ہے کہ انیس سال بعد وہ پہلی مرتبہ اپنی ماں کی شکل دیکھے گی۔ سب گڈ مڈ ہو گیا۔ یہ کس کا ملک ہے اور کسے ملنا چاہئے، یہ کیسے ہوگا اور کب ہوگا، کوئی بھی نہیں جانتا۔ ریڈیو، ٹی وی اور انٹرنیٹ پر روتے ہوئے کشمیریوں کے آنسو دیکھ کر بہت سے دیکھنے اور سننے والوں کے دل پسیجے ہونگے اور میڈیا کے لئے تو شاید یہ ایک گڈ سٹوری سے زیادہ کچھ نہ ہو، لیکن تین دن تک میں یہی سوچتا رہا کہ کیا گزرتی ہوگی ان پر جو اتنے کیمروں کے سامنےاور اس خیال سے بخوبی واقف ہیں کہ لاکھوں لوگ انہیں دیکھ اور سن رہے ہیں، پھر بھی اپنے جذبات پر قابو نہیں رک پا سکتے اور سٹوڈیو کی پیچیدہ مشینوں اور تاروں کے گچھوں کے درمیان کہیں ایک چھوٹی سی سکرین پر اپنے کسی چاہنے والے کی تصویر دیکھ کر بس رو دیتے ہیں۔ بہت ہو گئی یہ جزباتیت، میرا دل بہت کمزور ہے۔ میں اب مظفرآباد سے جا رہا ہوں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||