بی بی سی ویب کاسٹ کی پذیرائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’میرے جذبات ایسے تھے کہ میں سارے پردے توڑ کر اپنے پیاروں کو گلے لگاؤں لیکن میں مجبور تھی اور میں ایسا کر نہیں سکتی تھی۔‘ دریائے نیلم کے کنارے ایک کمرے میں انیس سال بعد اپنی بہن اور والدین کو ایک چھوٹی سی ٹی وی سکرین پر دیکھنے کے بعد عابدہ مسعودی نے روتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔ عابدہ مسعودی سن انیس سو پچاسی میں اپنے شوہر اور چار بچوں کے ہمراہ اپنی عزیز و اقارب کو ملنے کے لئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آئیں لیکن اسی دوران کشمیر کی صورتحال خراب ہونے کے باعث وہ واپس نہ جا سکیں اور مظفر آباد میں ہی رہ گئیں۔ عابدہ مسعودی جیسے بچھڑے ہوئے خاندانوں نے پہلی مرتبہ پیر کے روز بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی طرف سے شروع کی گئی ویب ملاقات یا ویب کاسٹ کے ذریعے لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب مقیم اپنے پیاروں سے ویڈیو کانفرنس کی سہولت سے ملاقات کی۔کشمیر میں اس نوعیت کا یہ پہلا تجربہ تھا جسے بڑے پیمانے پر پذیرائی حاصل ہوئی۔ اگرچہ اس ویب کاسٹ میں صرف چھ ایسے خاندان شریک ہورہے ہیں جو کئی برسوں سے اپنے قریبی رشتہ داروں سے مل نہیں سکے لیکن اس ویب کاسٹ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بی بی سی اردو کی ٹیم کو مسلسل فون کے ذریعے یا راستے میں روک کر ایسے اور کئی افراد جن کے پیارے لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف آباد ہیں، اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ بھی اس ویب کاسٹ میں شرکت کرنا چاہتے ہیں۔ ویب کاسٹ کے پہلے دن بی بی سی اردو کی ٹیم کی طرف سے قائم ایک عارضی سٹوڈیو میں جب سری نگر اور مظفر آباد کے درمیان ویڈیو لنک کے ذریعے رابطہ قائم ہوا تو وہاں بہت جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ ’اپنے بہن بھائیوں کو دیکھ کر مجھے ہر وہ لمحہ یاد آیا جو میں نے ان کے ساتھ گزارا تھا۔ میں خدا سے یہی دعا کرتی ہوں کہ یہ دوریاں ختم ہوں اور ہم ایک دوسرے سے ملیں۔‘ ایسے کشمیری خاندانوں کے لئے اس ویب ملاقات کی کتنی اہمیت تھی اس کا اندازہ ان لوگوں کے ردعمل سے لگایا جا سکتا ہے جو اس ویب ملاقات کے ذریعے اپنے بچھڑے ہوئے پیاروں کو دیکھ سکے۔ اکیس سالہ فرح دیبا کا، جنہوں نے انیس سال بعد پہلی مرتبہ اپنے کزنز ،خالہ اور نانا، نانی کو دیکھا، کہنا تھا کہ ’مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ پہلے میری زندگی میں کوئی رنگ نہیں تھا اور اب ان کو دیکھ کر میری زندگی رنگین ہوگئی ہے اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں جنت میں ہوں اور مجھے سب کچھ مل گیا ہے۔‘ فرح دیبا صرف دو سال کی تھیں جب وہ اپنے والدین کے ساتھ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آئیں تھیں۔ بی بی سی اردو کی اس ویب ملاقات کو لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب جتنی مقبولیت حاصل ہوئی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہےکہ کشمیر میں لوگوں کے درمیان رابطے اور تبادلے کی ضرورت کتنی زیادہ ہے۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں کشمیریوں کے لئے ویزہ حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے، اور اگر ویزہ مل بھی جائے تو چند گھنٹوں کا سفر طے کرنے کےلئے کئی دنوں کا طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں بچھڑے ہوئے کشمیری خاندان مسلسل جدائی کے درد سے گزر رہے ہیں۔ ایک ایسے کشمیری خاندان کے سربراہ فاروق میر کا کہنا ہے کہ ’ہمارے لئے مسلہ کشمیر بس یہی ہے کہ ہم اپنے پیاروں سے مل سکیں۔‘ یہ ویب کاسٹ منگل اور بدھ کے روز بھی جاری رہے گی اور ہر روز کم سے کم دو خاندان اس میں شرکت کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||