BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 June, 2004, 02:17 GMT 07:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویب کاسٹ کا انعقاد آسان نہ تھا

-
کنٹرول لائن کے آر پار کشمیر کے بچھڑے خاندانوں نے بی بی سی کے توسط سے بات کی
ان لوگوں کی آنکھوں سے کبھی خوشی کے آنسو بہہ رہے تھے اور کبھی وہ جوش میں چیخنے لگتے تھے انھیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔

مظفر آباد میں دریائے نیلم کے کنارے ایک چھوٹے سے ہوٹل میں اس وقت تاریخ رقم ہوئی جب ایک کشمیری فیملی نے بھارت اور پاکستان کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائین کے اس پار رہنے والے اپنے رشتے داروں کو پہلی مرتبہ دیکھا۔

ان لوگوں کے چہروں سے جھلکتی خوشی اور جذبات کو دیکھنے کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔

اس ویب کاسٹ کا انعقاد بی بی سی اوردو ڈاٹ کام نے کیا تھا۔اس کے لئے سرینگر اور مظفر آباد میں عارضی اسٹوڈیو میں بچھڑے ہوئے کشمیریوں نے جب 15 برس سے زائد عرصے بعد اپنے رشتےداروں کو دیکھا تو ان کے چہروں پر بے تحاشہ خوشی اور جذبات بکھرے ہوئے تھے۔

اس ویب کاسٹ کا انعقاد یقینناً کوئی آسان کام نہیں تھا۔ جس میں حکام سے اجازت لینے سے لیکر اس علاقے میں تکنیکی طور پر اس پراجیکٹ کو کامیاب بنانا شامل تھا جہاں مواصلاتی رابطوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

اس سلسلے میں ہر روز ایک کے بعد دوسری دشواری کا سامنا ہوتا تھا لیکن پہلے دن کے پروگرام کے بعد جب پیچھے مڑ کر ان تکلیف دہ تیاریوں کے مراحل کو دیکھا جائے جن میں تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ لگا تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ سارا عمل با ثمر تھا۔

چونکہ مظفر آباد اور سرینگر کے درمیان مواصلاتی رابطے نہ ہونے کے برابر ہیں اور مظفر آباد میں بنیادی ڈھانچہ بھی قابلِ اعتبار نہیں ہے تو یہ ویب کاسٹ سیٹلائیٹ کے ذریعے ہی ممکن ہو سکا ۔

یہ تمام علاقہ یوں بھی حساس تصور کیا جاتا ہے اس سے زندگی اور دشوار ہو گئی حالانکہ پاکستانی حکام نے پورا تعاون دیتے ہوئے اس پراجیکٹ کی اجازت دی لیکن اس کی حساسیت کے پیشِ نظر بی بی سی اردو کے عملے کے ساتھ ہمیشہ فوجی افسر موجود رہا اور دوسرے خفیہ ایجنسیوں نے اس تمام معاملے پر نظر رکھی۔

کنٹرول لائن سے منقسم ہونے والے لوگوں کے لئے یہ پروگرام کیا معنی رکھتا ہے اس کا اندازہ کچھ لوگوں کے ردِ عمل سے لگایا جا سکتا ہے ۔

اس ویب کاسٹ کے ذریعے 19 برس میں پہلی مرتبہ اپنی بہن کو دیکھنے والی عابدہ مسعود اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں ان کا کہنا تھا ’ میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں کسی طرح اس اسکرین میں گھس کر دوسری طرف جا کر اپنی بہن کے گلے لگ جاؤں اس کو چھو لوں ہم نے اپنا بچپن ساتھ گزارا تھا اور اب ہم بچھڑے گئے ‘۔

عابدہ کی کہانی ایسے بہت سارے کشمیریوں کی کہانی ہے جو کنٹرول لائن کی وجہ سے اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے ہیں۔

بیشتر خاندانوں کے لئے ویزاہ حاصل کرنا تقریباً نا ممکن ہے کیونکہ کشمیر حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان ایک سنگین مسلہ بنا ہوا ہے سرحد کی دو طرفہ فائرنگ میں پھنسے ہوئے یہ لوگ سرحد کے دوسری جانب رہنے والے اپنے رشتے داروں سے بچھڑ کر بے بس ہیں۔

کشمیریوں کے بچھڑنے کے اس عمل نے انہیں صرف ذاتی طور پر ہی متاثر نہیں کیا بلکہ ان کی تہذیب کو بھی متاثر کیا ہے ۔اور اس کی ایک مثال یہ دیکھنے میں آئی کہ جہاں زیادہ تر عمر دراز کشمیری اپنے عزیزوں سے کشمیری زبان میں بات کر رہے تھے وہیں کشمیریوں کی نئی نسل کے بچے جو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پیدا ہوئے اپنے بھائی بہنوں سے اردو میں بات کر رہے تھے۔

بہت سے کشمیریوں کے لئے اپنوں سے بچھڑنے کا معاملہ ان کے دل کے بہت نزدیک ہے اور شاید اسی لئے بی بی سی اوردو ڈاٹ کام پر یہ ویب کاسٹ لوگوں کے لئے ایک قومی تقریب بن گیا ہے ۔

اس طرح کے پروگرام میں لوگوں کی اتنی دلچسپی اور جوش وخروش سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس شورش زدہ علاقے کو اس طرح کے مزید اقدامات کی ضرورت ہے جس سے اس خطے کی سیاسی صورتِ حال پر خاطر خواہ اثر پڑے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد