BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 November, 2004, 12:38 GMT 17:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’انڈیا کے اشارے حوصلہ افزا نہیں‘
جنرل پرویز مشرف
جنرل پرویز مشرف
پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں ان کی تجاویز پر انڈیا کی جانب سے ملنے والے اشاروں سے انہیں مایوسی ہوئی ہے۔

خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر مشرف نے بھارتی حکومت پر لچکدار رویہ اختیار نہ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ انڈیا کی جانب سے ملنے والے اشارے حوصلہ افزا نہیں ہیں۔

بدھ کے روز بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کشمیر کے اپنے دورے پر کہا تھا کہ ان کی حکومت کشمیر میں دوبارہ سرحدوں کے تعین کے حق میں نہیں ہے۔ کشمیر میں سرحدوں کا تعین جنرل مشرف کی تجاویز میں سے ایک ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جنرل پرویز مشرف نے مزید یہ تجاویز پیش کی تھیں:

٭ پورے علاقے سے فوجیں ہٹاکر اسے خود مختار علاقہ قرار دیا جائے۔

٭ اس علاقے کو دونوں ممالک کے مشترکہ کنٹرول میں دے دیا جائے۔

٭ کشمیر کے کچھ علاقے دونوں ملکوں میں تقسیم کردیے جائیں اور وادئ کشمیر کو خودمختار بنایا جائے یا اقوام متحدہ کے کنٹرول میں دے دیا جائے۔

 ’حقیقت یہ ہے کہ جموں اور کشمیر متنازع ہے جسے انڈیا اور پاکستان کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہے۔
خورشید قصوری

لیکن کشمیر کے دورے پر وزیراعظم منموہن سنگھ نے بدھ کے روز یہ کہا: ’میں نے صدر مشرف پر یہ واضح کردیا ہے کہ بین الاقوامی سرحد کی دوبارہ تعین ہمیں منظور نہیں ہے۔‘

وزیر اعظم منموہن سنگھ کے بیان پر اپنے ردعمل میں پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری نے بھارتی حکومت سے کہا کہ وہ ’متنازعہ بیانات‘ سے گریز کرے۔

خورشید قصوری نے پاکستانی خبررساں ایجنسی اے پی پی کو بتایا: ’حقیقت یہ ہے کہ جموں اور کشمیر متنازعہ ہے جسے انڈیا اور پاکستان کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہے۔‘

جنرل مشرف نے اے ایف پی کو بتایا کہ انڈیا کے اشارے حوصلہ افزا نہیں ہیں: ’یقینا، یہ اشارے مزید بہتر ہونے چاہئیں۔۔۔ امن کی جانب پیش رفت کی خواہش کی ضرورت ہے۔‘

کشمیر میں تعینات بھارتی افواج میں کمی کے بارے میں جنرل مشرف نے کہا: ’اگر چھ لاکھ یا سات لاکھ فوجیوں میں سے چالیس ہزار فوجی ہٹالیے جارہے ہیں، تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں، یہ ایک پیش رفت ہے لیکن یہ ایک حکمت عملی ہے۔۔۔‘

ایک اندازے کے مطابق کشمیر میں انڈیا کی فوج کی تعداد ایک لاکھ اسی ہزار اور ساڑھے تین لاکھ کے درمیان ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے واپس کیے جارہےہیں لیکن عینی شاہدین نے بتایا کہ بدھ کے روز ایک ہزار فوجی واپس چلے گئے۔

جنرل مشرف کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب پاکستانی وزیراعظم شوکت عزیز چند روز میں دہلی جانے ہی والے ہیں۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شوکت عزیز کے دورے سے کسی کو کئی امید نہیں ہے لیکن پاکستان کچھ مثبت اشاروں کی توقع کرے گا۔

شوکت عزیز کا دہلی کا یہ دورہ جنوبی ایشیا کے ممالک کے دورے کا حصہ ہے۔ وہ اپنے بھارتی ہم منصب منموہن سنگھ سے کشمیر سمیت تمام مسائل پر بھی بات چیت کریں گے۔ جنوبی ایشیا کے دورے پر شوکت عزیز وہاں کے رہنماؤں کو پاکستان میں علاقائی کانفرنس میں شرکت کے لیے دعوت دیں گے۔

انڈیا اور پاکستان کشمیر میں ایک سال سے فائربندی پر قائم ہیں اور گزشتہ جنوری سے دونوں ملکوں کے درمیان امن مذاکرات کا عمل جاری ہے۔ انیس سو نواسی میں کشمیر میں شروع ہونے والی مسلح مزاحمت کے بعد سے چالیس ہزار سے زائد لوگ مارے جاچکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد