بھارتی اقدام اچھی ابتدا ہے: پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے فوج کی واپسی شروع ہونے کے عمل کو خوش آئند قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ اچھی ابتدا ہے،۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی فوج میں مرحلہ وار کمی سے جہاں کشمیریوں کو سکون ملے گا وہاں دونوں ممالک میں جاری جامع مذاکرات کو بھی مزید تقویت ملے گی۔ گزشتہ ہفتے بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال میں بہتری پیدا ہونے کی بنا پر اپنی فوج بتدریج کم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے اعلان پر عمل بدھ کے روز سے اس وقت شروع ہوا جب وہ پہلی بار سرینگر پہنچے اور ادھر اننت ناگ سے پہلا فوجی دستہ واپس روانہ ہوا۔ مسعود خان نے بھارت کی جانب سے سرحد پار شدت پسندی کے الزامات کے بارے میں کہا کہ’ نام نہاد سرحد پار دہشت گردی نہیں ہورہی، البتہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑا مسئلہ ہے جو نہیں ہونی چاہییں،۔ ترجمان نے کہا کہ ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ بھارت کتنی تعداد میں فوج کم کرے گا اور مرحلہ وار فوج کی واپسی کا کیا ’ٹائم فریم‘ ہے؟ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری جامع مذاکرات کے دوسرے دور کے سلسلے میں خارجہ سیکریٹریز کی سطح پر بات چیت کے لیے پاکستان نے بھارت کو اکیس اور بائیس دسمبر کی تواریخ تجویز کی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تاحال بھارت نے مجوزہ تاریخیں قبول کرنے کے بارے میں کوئی جواب نہیں دیا۔ مسعود خان نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز تئیس اور چوبیس نومبر کو بھارت کا دورہ کر رہے ہیں۔بھارت کے دورے کے موقع پر وہ جنوبی ایشیائی ممالک کے علاقائی تعاون کی تنظیم’سارک، کے امور کے علاوہ مسئلہ کشمیر سمیت دیگر دوطرفہ امور پر بھی بھارتی وزیراعظم سے بات چیت کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||