’اسلحے کی دوڑ شروع ہو جائے گی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے بھارت کی جانب سے اسلحہ کی خریداری پر اعتراضات کرتے ہوئے اس پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں روایتی اسلحہ کا توازن خراب نہ کرے، کیونکہ ایسا کرنا دونوں ممالک کی امن اور سلامتی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے برعکس ہوگا۔ یہ بات دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے بدھ کی شام جاری کردہ ایک بیان میں کہی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیاگیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیاں جامع مذاکرات کا دوسرا مرحلہ شروع ہورہا ہے۔ ترجمان نے بھارت کی جانب سے اسرائیل سے تئیس کروڑ ڈالر کی مالیت کے انٹیلی جنس آلات اور بغیر پائلٹ چلنے والے جاسوسی طیارے خریدنے کے متعلق شائع ہونے والی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں اسلحہ کی دوڑ میں اضافہ ہوگا۔ واضح رہے کہ مذکورہ خبر الجزیرہ ٹی وی نے اسرائیل کے سرکاری ذرائع سے نشر کی تھی اور اسے بھارت کے ایک اخبار میں بھی شائع کیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ’جدید اسلحہ اور فوجی ٹیکنالوجی شامل کرنے سے جنوبی ایشیا میں اسلحہ کی دوڑ شروع ہوجائے گی جو ہمیں ہر قیمت پر روکنا ہوگی‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان’کبھی نہ ختم ہونے والی اسلحہ کی دوڑ‘ کا مخالف رہا ہے کیونکہ کسی طور بھی یہ عمل خطے میں امن اور سلامتی کے لیے ہونے والی کوششوں کے لیے بہتر نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جلد ہی پاکستان اور بھارت جوہری اور روایتی اسلحہ کے متعلق اعتماد کی بحالی کے اقدامات کے لیے بات شروع کرنے والے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ’سٹریٹجک، اور روایتی توازن ہی خطے کے استحکام کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ شائع ہونے والی خبر میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی ریاستی طیارہ ساز صنعت بھارت کو ایسا ہارڈ ویئر فراہم کرے گی جس سے فوجی چوکسی کے لیے بغیر پائلٹ چلنے والے طیارے مشترکہ طور پر بھارت میں تیار کیے جائیں گے۔ ان کے بقول خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیل پچاس Eagle-Heron نامی بغیر پائلٹ طیارے بھی فراہم کرے گا، جو پچیس ہزار فٹ کی بلندی پر چوبیس گھنٹے، ایک ہزار کلومیٹر تک فضا میں رہنے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔ ترجمان نے بیان میں کہا ہے کہ بھارت کے ایک بڑے اخبار میں شائع ہونے والی خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل، بھارت کو اسلحہ فراہم کرنے والا بڑا ملک ہے اور اس نے مارچ میں بھارت کو تین ’فالکن ایئر بورن، طیارے بھی ایک ارب دس کروڑ ڈالر مالیت کے سودے کے بدلے فراہم کیے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||