فارمولا لے کر جائیں گے: قصوری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ وہ جب بھارت سے بات چیت کے لیے جائیں گے تو صدر پرویز مشرف کی تجاویز ساتھ لے کر جائیں گے۔ وہ بھارتی وزیرِ خارجہ نٹور سنگھ کے بیان پر بی بی سی کے نمائندے سے بات چیت کر رہے تھے۔ بھارتی وزیرِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پرویز مشرف کی تجاویز پر غور ہو سکتا ہے اگر انہیں سرکاری طور پر پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہ ہم نے کوئی تجویز نہیں پیش کی ہے۔ ’صدر مشرف نے پاکستان میں پبلک مباحثہ کا آغاز کیا ہے اور ہمیں خوشی ہو گی اگر بھارت میں بھی اسی قسم کی بحث کا آغاز ہو‘۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریق اس مسئلے کے بارے میں کئی سال سے سرد مہری کا مظاہرہ کر رہے تھے اور ’کسی کو تو ہمت اور دلیری دکھانی تھی وہ صدر مشرف نے دکھائی ہے‘۔ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ تجویز ایسی ہونی چاہیے جو دونوں ملکوں کےلیے قابلِ قبول ہو۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے جو تجاویز پیش کی ہیں انہی کی بنیاد پر بھارت سے بات کی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مستقبل قریب میں بات چیت کے کئی مواقع آئیں گے جن میں بھارت سے مسئلہ کشمیر کے حل پر بات چیت ہو گی۔ خورشید محمود قصوری نے بھارتی وزیرِاعظم کے بیان کا خیر مقدم کیا اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے عوام کا طرح دونوں ممالک کی حکومتیں بھی امن کے لیے کوشاں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||