BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 November, 2004, 11:40 GMT 16:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت کا مداخلت کا الزام مسترد

ایل او سی
صدر جنرل پرویز مشرف نے واضح طور پر کہا تھا کہ کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنانے کی بھارتی تجویز پاکستان کو قابل قبول نہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے بھارت کے وزیر داخلہ شیو راج پٹیل کی جانب سے کشمیری رہنماؤں پر پاکستان کے دباؤ ڈالنے کے متعلق بیان کو مسترد کیا ہے اور بھارت پر زور دیا کہ متضاد بیانات سے گریز کیا جائے۔

البتہ کشمیری رہنماؤں کو پاکستان آنے کی اجازت دینے کے متعلق بھارت کے وزیر داخلہ کے بیان کا انہوں نے خیر مقدم کیا۔

پیر کے روز ہفتہ وار بریفنگ کے موقع پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے سرحد پار شدت پسندی کے متعلق بھی بھارت کے الزامات کو رد کیا اور کہا کہ بھارت کے رہنماؤں کو سوچنا چاہیے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں؟

ترجمان کے مطابق ’ایک ہفتے بھارت والے کہتے ہیں کہ سرحد پار شدت پسندی میں کمی ہوئی ہے اور دوسرے ہفتے کہتے ہیں کہ اس میں اضافہ ہوگیا ہے‘۔

بریفنگ کے دوران کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنانے کے متعلق الطاف حسین کے بیان کے بارے میں سوال کے جواب میں مسعود خان نے کہا ’جہاں تک کنٹرول لائن کو مستقل یا عارضی سرحد بنانے کا سوال ہے وہ مذاکرات اور بحث طلب معاملہ ہے، پاکستان اور بھارت جامع مذاکرات کر رہے ہیں اور کشمیر کے حل کے لیے تمام پہلوؤں پر بحث کی جا رہی ہے،۔

لیکن بریفنگ ختم ہونے کے بعد انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے اپنے بیان کردہ موقف کے برعکس موقف اختیار کیا اور کہا کہ اصل میں وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کو کنٹرول لائن کی بنیاد پر کشمیر کا کوئی بھی حل قابل قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ’سٹیٹسکو، ایک مسئلہ ہے، حل نہیں۔

یاد رہے کہ کچھ دن قبل پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی واضح طور پر کہا تھا کہ کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنانے کی بھارتی تجویز پاکستان کو قابل قبول نہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ سے اصرار رہا ہے کہ کشمیریوں کو بھی مذاکرات میں شامل کیا جائے اور مسئلہ کشمیر، کشمیریوں کی خواہش کے مطابق حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے نمائندوں کو متضاد بیان دینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ مسئلہ کے حل کی سنجیدہ کوششیں ہورہی ہیں۔

امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ آرمیٹیج کے دورے کے متعلق انہوں نے بتایا کہ وہ منگل کو پاکستانی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون، پاک بھارت مذاکرات کی پیش رفت اور پاک امریکہ دو طرفہ معاملات کے متعلق بات چیت کریں گے۔

ایک سوال پر ترجمان نے بتایا کہ پاکستان، امریکہ سے ایف سولہ لڑاکا طیارے اور دیگر فوجی ساز و سامان حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس ضمن میں دونوں ممالک کے درمیاں بات چیت چل رہی ہے۔تاہم انہوں نے تفصیلات نہیں بتائیں اور کہا کہ دونوں ممالک کے دفاع کے متعلق مشاورت کے گروپ کے آئندہ اجلاس میں یہ معاملہ زیر غور آئے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد