جماعت اسلامی مزاحمت کرے گی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے صدر اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ ’بھارت اور امریکہ اور دنیا کی دیگر اقوام پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے کشمیر حل پر توجہ نہ دیں کیونکہ ان کی اپنی حیثیت متنازعہ ہے اور ان کے کسی فیصلےکو پاکستانی قوم کا فیصلہ نہیں کہا جا سکتا۔‘ قاضی حسین احمد کے بقول ’پاکستانی قوم اور کشیریوں کا موقف ہے کہ ریاست جموں و کشمیر ایک ناقابل تقسیم اکائی ہے اور اس کے مستقبل کے فیصلے کا حق صرف کشمیریوں کو حاصل ہے اور وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پاکستان یا بھارت سے الحاق کا فیصلہ کریں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کوئی فیصلہ نہ تو کشمیریوں اور نہ ہی پاکستانی قوم کو منظور ہوگا۔ قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ ’صدر جنرل پرویز مشرف کو ایسا کوئی حل پیش کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے، وہ خود فیصلے کرتے ہیں اور خود ہی مذاکرات شروع کر دیتے ہیں جن کی کوئی وقعت نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’وہ دنیا پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ صدر پرویز مشرف ایک متنازعہ شخصیت ہیں اور اپوزیشن ان کے خلاف تحریک کا آغاز کرنے والی ہے۔ اس لیے ان کی کسی بات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘ جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل سید منور حسن نے کہا کہ ’جنرل پرویز مشرف بھارت اور امریکہ کے ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں اور انہیں کشمیر کے ایسے حل پیش کرنے سے باز آ جانا چاہیے۔‘ انہوں نے کہا کہ صدر پرویز مشرف نے ایسے کسی فیصلے پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی تو اس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی اور جماعت اسلامی ان کے خلاف تحریک چلائے گی۔ جماعت اسلامی پاکستان کی ایک ایسی جماعت ہے جس کا کہنا ہے کہ اس کے بے شمار کارکن کشمیر میں عسکری جدوجہد کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔ ادھر جمعیت علماء اسلام(ف) سے تعلق رکھنے والے ایم ایم اے کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل حافظ حسین احمد نے صدر پرویز مشرف کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ان کی اس تجویز کا مطلب ہے کہ شہ رگ کے سات ٹکڑے کر دیئے جائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||