BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 October, 2004, 07:58 GMT 12:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف کے مسائل کا احساس ہے‘
کالن پاول
’مشرف جس طرح حالات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کی مشکلات کا تھوڑا بہت احساس ضروری ہے‘
امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے لیکن اس کی سمت درست ہے۔

امریکی اخبار یو ایس اے ٹُوڈے کو ایک انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ سے سوال کیا گیا تھا کہ آیا پاکستان جیسے ممالک میں ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں امریکہ کی حمایت اور وہاں بڑھتے ہوئے آمرانہ رجحانات میں کوئی تعلق ہے؟ سوال میں صدر جنرل مشرف کے وردی نہ اتارنے کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا تھا۔

کولن پاول نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں پارلیمنٹ نے کام شروع کیا ہے، وزیر اعظم کا انتخاب عمل میں آیا ہے، قانون سازی ہوئی ہے جس سے ایک موثر مقننہ کا ثبوت ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتنا نہیں ہے جتنا ان کے خیال میں ہونا چاہیے تھا پر وہ ایک ایسی قوم ہے جو ابھی خطرناک صورتحال سے دو چار ہے۔

پاول نے کہا کہ ’میرا مطلب ہے کہ پاکستان خطرے میں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ وہ نہیں چاہتے جو مشرف چاہتے ہیں اور انہیں مشرف کی پالیسیوں سے اختلاف ہے۔ مشرف کو گزشتہ آٹھ ماہ میں دو بار قتل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کولن پاول نے کہا ہے کہ حالات کو دیکھتے ہوئے مشرف کی مشکلات کا تھوڑا بہت احساس ضروری ہے۔ انہوں نے کہا مشرف کو مشکل اقتصادی صورتحال کا سامنا ہے، مدرسوں اور تعلیمی نظام میں تبدیلیاں لانی ہیں، ذرائع ابلاغ قدرے آزاد ہیں اور یہ سب ایسے وقت ہو رہا جب ملک میں بم دھماکے بھی ہو رہے ہیں۔

کولن پاول نے کہا کہ وہ بہانے نہیں بنا رہے بلکہ سمجھتے ہیں کہ اگر چیزیں درست سمت میں جا رہی ہوں تو متعلقہ لوگوں سے بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان میں ہونے والی تاریخی تبدیلیوں کا احساس ہونا چاہیے۔

پاک بھارت تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا امریکہ دونوں ممالک کے درمیان ’تاریخی ٹیلیفون‘ کال کروائی تھی جو بعد میں امن مذاکرات کا باعث بنی۔

پاول نے بتایا کہ اپریل میں جب پاک بھارت تعلقات قدرے نرم ہو رہے تھے صدر مشرف نے ان سے فون پر پوچھا کہ اگر وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی بھارتی وزیر اعظم کو فون کریں تو کیا وہ مثبت جواب دیں گے؟

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ وہ دن کبھی نہیں بھول سکتے جب صدر مشرف نے ان سے فون پر یہ سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے صدر مشرف سے کچھ وقت مانگا اور کچھ دیر بعد بات طے ہو گئی کہ ابتدائی طور پر ایک رسمی فون کال کی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد