شوکت عزیز بھارت جائیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز جنوبی ایشیا کے سات ممالک کے علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک‘ کے چیئرمین کی حیثیت سے آئندہ ماہ بھارت کا دورہ کر رہے ہیں۔ وزیراعظم بننے کے بعد ان کا بھارت کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔تاہم تاحال یہ واضح نہیں کہ وہ دو طرفہ معاملات پر بھی بھارتی قیادت سے بات کریں گے یا نہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم کے دورے کی تواریخ طے کی جا رہی ہیں۔ ’سارک‘ کے رکن ممالک ایک سال کے لیے تنظیم کی سربراہ بنتے ہے۔ سارک کہ سربراہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں رکن ممالک کے دورے بھی کرتے ہیں۔ ان دوروں میں باہمی رضامندی سے متعلقہ ممالک کے سربراہان دوطرفہ امور پر بھی گفتگو کرتے ہیں۔ جیسا کہ رواں سال جنوری میں اسلام آباد میں منعقد کردہ ’سارک سربراہی اجلاس‘ کے موقع پر اس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی تھی اور دونوں ممالک کا مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ ترجمان مسعود خان نے بریفنگ کے دوران بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں رہنے والے کشمیریوں کو ایسا پاسپورٹ جاری کیا گیا ہے جس پر وہ پاکستان نہیں جاسکتے۔ ترجمان نے بھارت کے اس قدم کو کشمیریوں کے ساتھ ’امتیازی‘ رویہ قرار دیا اور کہا کہ ایسے فیصلوں سے دونوں ممالک کے درمیاں غلط فہمیاں بڑھ سکتی ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ دسمبر میں پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات میں مسئلہ کشمیر سرفہرست ہوگا۔ ترجمان نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے تعمیر ہونے والے بغلیار ڈیم کے متعلق دونوں ممالک میں بات چیت جاری ہے اور تاحال پاکستان نے اس معاملے پر عالمی بینک سے ثالثی کے لیے رجوع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں حزب اختلاف کی ایک جماعت کے رہنما عمر عبداللہ پر قاتلانہ حملے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے مسعود خان نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے۔ ترجمان نے اسامہ بن لادن کے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجودگی کے متعلق امریکی میڈیا کی خبروں کو قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا کہ اسامہ بن لادن پاکستان یا افغانستان کے کس علاقے میں موجود ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||