BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 July, 2004, 01:58 GMT 06:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امن مذاکرات میں سنجیدہ ہیں: شجاعت

سارک اجلاس
یہ سارک تنظیم کے وزراء خارجہ کی کونسل کا پچیسواں اجلاس ہے
جنوبی ایشیائی تنظیم سارک ممالک کے وزرائے خارجہ کا پچیسواں اجلاس منگل کے روز اسلام آباد میں شروع ہوا۔

پاکستان کے وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین نے اجلاس کا افتتاح کیا۔

دو روزہ اجلاس کے دوران سارک ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے اور سارک کو زیادہ موثر تنظیم بنانے پر غور کیا جائے گا۔

اس اجلاس میں سارک کے رکن ممالک ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، سری لنکا اور مالدیپ کے وزرائے خارجہ شرکت کررہے ہیں۔

وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین نے افتتاحی اجلاس میں اپنی تقریر میں کہا کہ خطے کی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرے۔

چودھری شجاعت حسین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ اختلافات کو دور کرنے کے لیے امن کوششوں کو جاری رکھے گا۔

’میں دنیا بھر کو، خاص طور پر سارک ملکوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ امن مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنے میں بہت سنجیدہ ہے۔‘

انہوں نے خاص طور پر غربت کا خاتمہ اور آزادانہ تجارت کے فروغ جیسے مقاصد کا خاص طور پر ذکر کیا۔

اجلاس کے موقع پر پاکستان اور بھارت کے وزراء خارجہ ملاقات بھی کریں گے جس میں خطے میں امن و سلامتی اور کشمیر سمیت باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئیں گے۔

توقع ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری اور ان کے بھارتی ہم منصب نٹور سنگھ کے مابین ملاقات بدھ کے روز ناشتے پر ہو گی۔

اس اجلاس میں سامنے آنے والی ایک نئی تجویز میں کہا گیا ہے کہ رکن ممالک میں جنوبی ایشیا کی سطح پر اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے عالمی بینک کی طرز پر سارک ممالک علاقائی بینک قائم کیا جائے۔ دنیا کی آبادی کے بیس فیصد لوگ جنوبی ایشیا کے ان ساتوں ممالک میں بستے ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سارک اجلاس کے ساتھ ساتھ دنیا کی نظریں اس بات پر بھی مرکوز ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کشمیر سمیت دیگر باہمی معاملات پر کیا بات چیت کرتے ہیں۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید احمد قصوری نے کہا ہے کہ وہ اپنے بھارتی ہم منصب نٹور سنگھ کے ساتھ دوطرفہ امور پر بات چیت کریں گے۔

نٹور سنگھ نے اسلام آباد پہنچنے پر پیر کے روز کہا کہ وہ بھارت کی حکومت اور عوام کا پاکستان کی حکومت اور عوام کے لیے خیر سگالی اور دوستی کا پیغام لائے ہیں۔

پاکستان آمد کے بعد نٹور سنگھ نے بتایا کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف، وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد