نٹور سنگھ پاکستان پہنچ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ سارک وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کیلئے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ سولہ سال بعد پاکستان کے دورے پر آئے ہیں۔ اس سے پہلے وہ سابق بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کے ساتھ پاکستان آئے تھے۔ وزیر خارجہ نٹور سنگھ کا اسلام آباد کا دورہ سارک علاقائی کانفرنس میں شرکت کے سلسلے میں ہے۔ جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کے فروغ کی تنظیم سارک کا اجلاس منگل کو اسلام آباد میں شروع ہوگا۔ پاکستان پہنچنے پر اخبار نویسوں سے بات چت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاک بھارت امن مذاکرات کو کامیاب بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اپنے دورے کے دوران مسٹر نٹور سنگھ صدر پرویز مشرف، وزیر اعظم شجاعت حسین اور وزیر خارجہ خورشید قصوری سے ملاقات کریں گے۔ اس سے پہلے پاکستانی وزیر خاجہ نے کہا تھا کہ نٹور سنگھ سے ان کی ملاقات سارک اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے۔ سارک اجلاس میں ہندوستان، پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ اور سری لنکا کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔ خورشید احمد قصوری نے کہا کہ پاکستان کمشیر سمیت دوطرفہ معاملات پر لچکدار رویہ اختیار کرنے کو تیار ہے بشرطیکہ ہندوستان بھی ویسا ہی کرے۔ انہوں نے کہا کہ صدر پرویز مشرف بھی اسی خیال کے حامی ہیں۔ قصوری کا کہنا تھا کہ سارک علاقائی تنظیم دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کا شکار رہی ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سارک ملکوں کو جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان سے سبق سیکھنا چاہئے، جو سارک ممالک سے پیچھے ہوتے تھے لیکن اب کافی آگے نکل گئے ہیں۔ قصوری نے کہا کہ سارک وزراء خارجہ کے اجلاس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ بھی اپنی ملاقات الگ کریں گے لیکن اس ملاقات کے لئے کوئی ایجنڈہ نہیں طے کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ دونوں ملک بات کریں اور کشمیر کا ذکر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سرکار حریت کانفرنس سے بات چیت کررہی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مانتی ہے کہ یہ تنظیم کشمیری لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے، ورنہ حریت کانفرنس کو نظرانداز کردیتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||