BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 January, 2004, 14:14 GMT 19:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام آباد اعلامیہ پر اتفاق

خورشید قصوری اور یشونت سنہا
موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیئے

پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا ہے کہ بارھویں سارک سربراہ اجلاس کے لیے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد کے اعلامیہ پر اتفاق کرلیا ہے جسے تنظیم کے ممالک کے سربراہوں کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ سارک سربراہ کانفرنس کی تیاری کے لیے کیے گئے اجلاس سے ایک تاریخ ساز سربراہ اجلاس ہونے کا عندیہ ملتا ہے جو ارکان کے درمیان کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ممکن ہوا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اس اعلامیہ میں تجارتی اور معاشی معاملات ، سائنس اور ٹیکنالوجی، سماجی ترقی، ثقافتی رابطوں، ماحولیات، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اطلاعات اور رسل و رسائل میں زیادہ رابطوں اور جنوب ایشیا میں امن اور استحکام کے لیے علاقائی تعاون کے امور شامل ہیں۔

وزیر خارجہ نے اسلام آباد آنے والے ہندوستان کے وزیراعظم کی پاکستان کے وزیرااعظم ظفراللہ جمالی اور صدر مشرف سے ملاقات کے امکان کے بارے میں کوئی واضح جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے معاملات میں خوش امیدی ہی پر انحصار کیا جاسکتا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جاسکے گا۔

خورشید قصوری نے اسلام آباد میں سارک میڈیا سینٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کسی طرح کی دو طرفہ بات چیت ہونے کی کوئی اطلاع نہیں اور یہ فیصلہ ہندوستان کی حکومت نے کرنا ہے۔

خورشید قصوری نے کہا ک پاکستان بار بار کہہ چکا ہے کہ ہم مذاکرات اور اس عمل کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان نہ جنگ نہ امن کی کیفیت کئی برسوں سے چل رہی ہے اور اس میں تین جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ اس کیفیت کو ختم ہونا چاہیے۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان ہندوستان کو مذاکرات کے لیے تیار کرنے کے لیے دہشت گردی کے معاملہ پر کوئی مضبوط یقین دہانی کرائے گا، انہوں نے کہا کہ آگرہ میں کچھ باتیں طے ہوگئی تھیں اور دہشت گردی کے معاملہ پر بھی متن تیار ہوگیا تھا لیکن امریکہ کے حملہ کے بعد جو نئی صورتحال پیدا ہوئی اس کے بعد ہندوستان نے اپنا موقف تبدیل کرلیا جو ہمیں قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جب بات طے ہو تو وہ ہماری اپنی صورتحال سے جنم لے نہ کہ کسی ایسے واقعہ سے جو کسی اور جگہ ہوا ہے۔

خورشید قصوری نے بتایا کہ سارک کے وزرا کی کونسل نے آج اپنا اجلاس مکمل کرلیا ہے اور تمام بات چیت خیرسگالی، تعاون اور مفاہمت کے جذبہ سے ہوئی اور کونسل جن تاریخی نتائج پر پہنچی ان سے بات چیت کے اچھے ماحول کا پتا چلتا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے کنونشن میں ترمیم کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ یہ سترہ سال پرانا ہوگیا تھا اور اقوام متحدہ نے اپنی قرار داد 1373 کے بعد انسداد دہشت گردی کے جس کنونشن کی منظوری دی اس کی روشنی میں سارک کے اس کنونشن کو اس کے مطابق بنایا گیا اور اس کی زبان بھی تقریبا وہی ہے۔ اس میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے رقم دینے کی شقیں شامل کی گئی ہیں۔

وزیر خارجہ نے آزادانہ تجارت کےمعاہدہ کی کچھ تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس پر عمل جنوری سنہ دو ہزار چھ سے شروع ہوگا اور سارک کے زیادہ ترقی یافتہ ممالک پانچ سال کے عرصہ میں اپنی درآمدی ڈیوٹیاں صفر سے پانچ سال تک پر لے آئیں گے جبکہ کم ترقی یافتہ ممالک دس سال میں ایسا کریں گے۔

اس کے علاوہ ہر رکن ملک حساس اشیاء کی ایک فہرست بھی بنائے گا جن پر درآمدی ڈیوٹی کم نہیں کی جائے گی اور اس حساس فہرست کو جنوری دو ہزار چھ تک بنالیا جائے گا۔

وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ سارک کی مالیاتی کمیٹی کو کہا گیا ہے کہ وہ سارک کے ترقیاتی بینک کے تصور کا جائزہ لے اور سارک کی اقتصادی یونین کے جلد بنائے جانے پر سفارشات پیش کرے۔

وزیر خارجہ نے جو سارک کی وزرا کونسل کے چئیرمین بھی ہیں کہا کہ اگلا سارک سربراہ اجلاس اگلے سال جنوری میں ڈھاکا میں ہوگا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد