BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 March, 2004, 21:41 GMT 02:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تہذیبوں کی ٹوٹ پھوٹ‘

News image
اس سال جنوری میں سارک سربراہ اجلاس کی میزبانی بھی پاکستان نے کی تھی۔
سنیچر کو اس کانفرنس کا دوسرا دن تھا جس میں مختلف ملکوں کے افسانہ نگارں اور شاعروں نے اپنی کہانیاں اور شاعری سنائی اور ادب میں نوحقیقت پسندی پر گیارہ ستمبر کے حملے کے بعد شروع کی جانے والی جنگوں کے اثرات پر گفتگو کی۔

ادبی رسالہ دنیا زاد کے مدیر آصف اسلم فرخی نے اپنے مقالہ میں معروف ناول نگار ناباکوف کے ناول لولیتا اور اس کے کردار کو مغرب اور پسماندہ ملکوں کے درمیان تعلق کی علامت کے طور پر پیش کیا۔

آصف فرخی نے کہا ہمارے ملکوں کے ساتھ معروف ناول لولیتا کے کردار ایسا سلوک کیا جارہا ہے اور ہم ایسے ملکوں کو اس وقت دنیا پر حکومت کرنے والوں کے خوابوں کے مطابق بنانے کے لیے ترغیب دی جاتی ہے اور ان کے مطابق بدلا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے ادیبوں کو اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا اور ہماری قوموں کو اس کے لیے مصیبت جھیلنا ہوگی کہ انھیں کسی اور کے خوابوں کے مطابق شکل بدلنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے واقعات نے ہماری صورتحال کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔ اب ہمارے سامنے سوال یہ ہے کہ ہم پڑھتے رہیں اور لولیتا بنے رہیں یا ہم اس حلقہ کوتوڑیں اور حقیقت کا مقابلہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس نئی صورتحال میں اردو ادب میں مختلف قسم کے ردعمل سامنے آۓ ہیں اور افسانہ نگاروں اور شاعروں نے گیارہ ستمبر کے واقعات کے حوالے سے تصنیفات تخلیق کی ہیں۔

مختلف ادبی نگارشات کا تذکرہ کرتے ہوۓ آصف فرخی نے کہا کہ نیلم احمد بشیر نے گیارہ ستمر کے واقعات کا آنکھوں دیکھا حال تحریر کیا ہے جس میں انھوں نے ان حملوں کے وقت اپنی موجودگی اور تجربہ کے حوالہ سے لکھا ہے بلکہ اس دوران میں جو لوگوں کی بنیادی انسانیت دیکھنے میں آئی اسے بھی موضوع بنایا ہے۔

آصف فرخی نے کنیڈا میں رہنے والی فلم ساز پاکستانی زرقا نواز کی ڈائری کا بھی ذکر کیا جو کنیڈا کے اخباروں میں شائع ہوئی اور جس میں انھوں نے گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد مغرب کے بدلتے ہوۓ موڈ کے پس منظر میں اپنی روزمرہ کی زندگی کو بیان کیا ہے۔

آصف فرخی نے کہا کہ تہذیبوں کا تصادم نہیں ہورہا بلکہ یہ جو ہم سن رہے ہیں یہ تہذیبوں کی ٹوٹ پھوٹ ہے کیونکہ تاریک رات کے اندھیرے میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

نیپال سے آۓ ہوۓ پروفیسر ابھی سوبیدی نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے واقعات اور ان پر امریکہ کا ردعمل دونوں میں اتنی شدت ہے کہ یہ سیاست اور جنگ کے دائرے سے نکل کر مابعدالطبیعات کے دائرے میں چلے گۓ ہیں اور اسے القاعدہ اور امریکہ کے درمیان نیکی اور بدی کی جنگ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان واقعات سے نیپال جیسا ملک خاصی دور ہے اور اس کے ادب پر زیادہ اثر نہیں ہوا تاہم ایک خوف کی فضا موجود ہے جس کا اظہار ادب اور تھیٹر میں کیا جارہا ہے۔

اردو کے افسانہ نگار انور سجاد نے کہا کہ عوام کا ایک بڑا دشمن میڈیا پر حکمران طبقہ کا مکمل کنٹرول ہے اور سارک کے ادیبوں کو اس پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنانی چاہیے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دنیا میں دہشت گردی کی ایک اور قسم بھی ہے جو زیادہ خطرناک ہے اور وہ معاشی دہشت گردی ہے جو آہستہ آہستہ ہمارا خون چوس رہی ہے اور اس کے خلاف بھی جدوجہد کی جانی چاہیے۔

سنیچر کو سارک رائٹرز کانفرنس میں افتحار عارف اور شمیم حنفی کے علاوہ بہت سے ادیبوں نے اپنی شاعری اور افسانے سامعین کے سامنے پڑھے۔ یہ کانفرنس اتوار کی شام اختتام کو پہنچے گی اور سوموار کے روز ادیب لاہور میں مشہور مقامات دیکھنے جائیں گے اور منگل ک اپنے اپنے ملکوں کو واپس چلے جائیں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد