| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سارک: اعلان اسلام آباد
سارک ملکوں کے سربراہوں نے اسلام آباد میں جس اعلامیہ پر اتفاق کیا ا س میں معاشی تعاون، دہشت گردی کے خاتمہ کے علاوہ رکن ملکوں کے درمیان دوطرفہ تنازعات کے حل کے لیے غیر سرکاری بات چیت کی اہمیت اور چھوٹے ملکوں کی حاکمیت اعلی کے تحفظ کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اس سات صفحوں پر پھیلے طویل اعلامیہ کے نمایاں نکات یوں ہیں۔ سیاسی تعاون میں اضافہ ہم ایسے جنوب ایشیا کا تصور رکھتے ہیں جو پرامن اور مستحکم ہو جہاں ہر قوم امن سے ہو اپنے آپ میں اور ہمسایوں کے ساتھ اور جہاں تنازعات، اختلافات اور جھگڑے پر امن طریقوں اور دوطرفہ مذاکرات سے حل کئے جائیں۔ ہم خود مختاری پر مبنی، علاقائی وحدت اور قومی آزادی پر مبنی اچھے ہمسایوں کے تعلقات کے لیے عہد کرتے ہیں اور رکن ملکوں کے درمیان اعتماد بحال کرنے کے عمل اور باہمی مفاہمت بڑھانے کے لیے غیرسرکاری سیاسی بات چیت کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ چھوٹی قوموں کا تحفظ ہم سلامتی سے متعلق چھوٹی قوموں کے خدشات سے آگاہ ہیں ان کو دور کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر ، حاکمیت اعلی اور ملکوں کی علاقائی سالمیت کے عالمی قوانین اور دنیا بھر میں مانے جانے والے اصولوں اور اقدار کی پاسداری کی جاۓ۔ دہشت گردی کے خلاف لڑائی ہم دہشت گردی کی ہر صورت اور ہر شکل میں مذمت کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ جنوبی ایشا کے لوگوں کو دہشت گردی سے ایک سنجیدہ خطرہ کا سامنا ہے۔ دہشت گرد اقوام متحدہ اور سارک چارٹر کی تمام بنیادی اقدار کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنجیدہ خطرہ ہیں۔ ہم متعلقہ عالمی معاہدوں پر پوری طرح عمل کے لیے رضا مند ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||