لاہور سارک رائٹرز کانفرنس شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوب ایشیائی ممالک کے ادیبوں کی دسویں سارک رائٹرز تین روزہ کانفرنس جمعہ کو لاہور میں شروع ہوئی۔ اس کانفرنس میں پاکستان کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے تقریبا پچاس ممتاز ادیبوں کے علاوہ سارک کے دوسرے چھ ملکوں سے آنے والے بارہ ادیب شرکت کر رہے ہیں ان میں ہندوستان سے آنے والوں میں اجیت کور اور عابد حسین نمایاں ہیں۔ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی دانشور اور ادیب ڈاکٹر مبشر حسن نے کہا کہ اس خطے میں مسلمانوں، ہندؤوں اور عیسائیوں کے درمیان لڑائی کی وجہ قوم پرستی ہےجس میں لوگ کسی مذہبی جنون کی طرح مبتلا ہیں۔ مبشر حسن کا کہنا تھا کہ ادیبوں کو قوم پرستی کے اس مذہب کا ایسا متبادل ڈھونڈنا ہوگا جو محبت اورامن کا مذہب ہو۔ سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جاوید اقبال نے کہا کہ دنیا گیارہ ستمبر کے واقعات سے نہیں بدلی بلکہ اس لیے بدلی ہے کہ سوویت یونین کے زوال کے بعد یہاں طاقت کا توازن ایک ملک کے حق میں چلا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے متوازن کرنے کے لیے یورپی یونین وجود میں آئی ہے اور پچیس سال تک چین بھی ایک طاقت کے طور اس توازن کو بحال کرسکتا ہے۔ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ جنوب ایشیائی ملکوں کا اکٹھا ہونا بھی اس خواہش کا اظہار ہے کہ ہم کس طرح اپنا سیاسی اور تمدنی دفاع کریں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ سارک ملکوں کے قریب آنے میں خاصی دشواری ہے کیونکہ ان ملکوں کے ہاں غربت کے سوا کوئی چیز مشترک نہیں، ان کی سوچ کا طریقہ اور زبانیں اور تہذیبیں بھی جدا جدا ہیں۔ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ادیبوں پر یہ ذمہ داری بھی عاید ہوتی ہے کہ وہ اس خطے کے نصب العین کو تبدیل کرنے کی ضرورت پوری کریں اور انہیں چاہیے کہ وہ سیاستدانوں کو یہ بصیرت دیں کہ غربت کو دور کرنے کے لیے کیا طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ وہ محبت کا پیغام دیں تاکہ جنگوں کا سلسلہ ختم ہو اور ہر جگہ خوشی میسر آسکے۔ تاہم ہندوستان کی نامور ادیبہ اجیت کور نے کہا کہ اب ہندوستان اور پاکستان میں صرف غربت ہی مشترک چیز نہیں بلکہ ایٹم بم بھی مشترک ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئیے خواب دیکھیں کہ دونوں ملک مل کر ایک دن اپنے ہتھیاروں کو اس طرح ختم کردیں گے جس طرح ایک خاندان کے لوگ ایک دن گھر کی صفائی کرتے ہوئے سب کوڑا نکال پھینک دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اوقیانوس سے خلیج فارس تک شطرنج کا کھیل کھیلا جارہا ہے اور ہم ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ایک ملک دوسروں پر دھونس چلا رہا ہے ایسے میں لوگوں کے پاس دو راستے ہیں کہ یا تو خاموش رہا جائے اور یا کھڑے ہوکر اس پر اپنی آواز بلند کی جائے اور تمام تخلیقی لوگوں کے لیے دوسرا راستہ ہی واحد راستہ ہے۔ اجیت کور نے کہا کہ انھوں نے ستمبر انیس سو ستاسی میں ہندوستان اور پاکستان کے ادیبوں کی پہلی کانفرنس دہلی میں کرائی تاکہ لکھنے والے دونوں ملکوں کے درمیان پر امن اور ہوش پر مبنی ہمسائیگی کے تعلقات کے لیے بے تکلفی سے اپنی اجتماعی رائے کا اظہار کرسکیں۔ یہی کانفرنس بعد میں ادیبوں کی موجودہ سارک کانفرنس کی صورت اختیار کرگئی۔ کانفرنس ابھی جاری ہے جس کے شام کو دو اور اجلاس ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||