BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 January, 2004, 12:26 GMT 17:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سارک سے اعتماد بڑھے گا‘

خورشید محمود قصوری اور یشونت سنہا
تجارتی معاہدے کو کامیابی قرار دیا جا رہا ہے

ہندوستان کے سینیر صحافی پرافل بدوائی نے کہا ہے کہ سارک کے موقع پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان باضابطہ بات چیت نہ بھی ہو تب بھی ایک دوسرے سے غیر رسمی رابطہ تو ضرور ہورہا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ کررہے ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوسری طرف ہندوستان کی قومی سلامتی کے مشیر برجیش مشرا بھی اسلام آباد میں موجود ہیں اور صدر مشرف سے ملیں گے۔

انہوں نے کہا کہ غیر رسمی رابطوں کے ذریعے دونوں ملک ایک دوسرے کا موقف غیر سرکاری طور پر معلوم کریں گے، باضابطہ بات چیت کے امکان پر غور کریں گے اور دیکھیں گے کہ وہ کس حد تک آگے بڑھ سکتے ہیں۔

پرافل بدوائی کا کہنا ہے کہ تجارت کا معاہدہ سافٹا ایک بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ اس سے ان دونوں ملکوں کو اعتماد کی اس سطح پر آنے میں مدد ملے گی کہ وہ کشمیر جیسے تنازعات پرپیش رفت کر سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف سافٹا سے سارک میں کوئی انقلابی تبدیلی اس وقت تک نہیں آسکتی جب تک ہندوستان اور پاکستان مذاکرات شروع نہ کریں اور مفاہمت کی اس سطح پر نہ پہنچ جائیں کہ امن کی بات ہوسکے۔

ہندوستان کی ایک اور سینیئر صحافی سیما مصطفےٰ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سیفٹا کو سراہا اور کہا کہ یہ بہت بڑی کامیابی ہے جس سے سارک کے ملکوں کی مشترکہ اقتصادی یونین اور مشترک کرنسی کی بات آگے بڑھی گی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ِان ممالک کا اِمیج دنیا میں بہتر ہوگا اور دنیا اِنہیں غریب اور لڑنے جھگڑنے والے ملکوں کے بجائے ایک طاقتور بلاک کی حیثیت سے دیکھ سکے گی۔

سیما مصطفٰے کا کہنا ہے کہ سیفٹا کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان آزادانہ تجارت شروع ہونے سے دو طرفہ تعلقات میں بھی بہتری آئے گی اور تجارت سے دونوں ملکوں کا ایک دوسرے سے مفاد وابستہ ہوجائے گا۔

تاہم سیما مصطفٰے کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں سیاسی قیادت کی یہ سوچ ہے کہ پاکستان سے کشمیر سمیت تمام معاملات پر بات چیت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان معاملات پر بات آگے نہ بڑھی تو دیگر معاملات جیسا کہ سیفٹا ایک بار دوبارہ پیچھے چلے جائیں گے۔

سیما مصطفٰے کا اور دوسرے بہت سے ہندستان سے آئے ہوئے صحافیوں کی طرح یہ کہنا ہے کہ سارک سربراہ کانفرنس کے موقع پر پاکستان میں لوگوں کی توقعات بہت زیادہ ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بھی کوئی پیش رفت ہو لیکن ایسا ہوگا نہیں۔

پاکستان انسانی حقوق کمیشن کے ڈائریکٹر آئی اے رحمان نے کہا کہ انہیں دونوں ملکوں کے دو طرفہ معاملات پر پیش رفت ہوتی نظر نہیں آتی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد