BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 January, 2004, 20:04 GMT 01:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سارک:انسداد دہشت گردی پروٹوکول

سارک
دہشت گردی کا اضافی پروٹوکول اس مجموعی مفاہمت کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان اوت بھارت آئندہ ماہ مذاکرات بھی شروع کریں گے۔

چھ جنوری کو بارھویں سارک اجلاس کے اختتامی اجلاس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے سارک انسداد دہشت گردی کے علاقائی کنوینشن کے اضافی پروٹوکول پر دستخط کیے۔

اس اضافی پروٹوکول میں دہشت گردی کے لیے مالی مدد دینے والوں کے خلاف سارک ملکوں کو سخت اقدامات اٹھانے کے لیے کہا گیا ہے۔ دہشت گردی کی تعریف تو نہیں کی گئی لیکن ان کارروائیوں کی وضاحت کی گئی ہے جو اس پروٹوکول کے تحت جرم کی ذیل میں آتے ہیں۔

اس پروٹوکول کو سارک کے علاقائی کنوینشن برائے انسداد دہشت گردی، چار نومبر انیس سو ستاسی، کٹھمنڈو کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس اضافی پروٹوکول کے بائیس آرٹیکل ہیں جن کو مختلف عنوانات دیے گئے ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ اس اضافی پروٹوکول کا مقصد سارک کے انسداد دہشت گردی کے علاقائی کنوینشن کو مضبوط بنانا ہے۔ خاص طور پر دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے سرمایہ فراہم کرنے، جمع کرنے اور حاصل کرنے کو جرم قرار دے کر اور ایسے کاموں کے لیے سرمایہ دینے کی روک تھام کرنے اور اسے کچلنے کے لیے اور اقدامات کیے جائیں۔

اضافی پروٹوکول کے مطابق کوئی بھی شخص مجرم ہے جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر، جان بوجھ کر یا اپنی رضامندی کے بغیر پیسے جمع کرے یا مہیا کرے اور جو دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال کیے جائیں۔

مالی مدد دینے والے

 اس اضافی پروٹوکول میں دہشت گردی کے لیے مالی مدد دینے والوں کے خلاف سارک ملکوں کو سخت اقدامات اٹھانے کے لیے کہا گیا ہے

پروٹوکول کے آرٹیکل چار میں اس دہشت گردی کی کارروائی میں یہ بھی شامل ہے کہ ایسا کام جو کسی شہری کو مارنے یا سخت زخمی کرنے کے لیے کیا جائے اور جس کا مقصد یہ ہو کہ اس آبادی کو ڈرایا جائے یا حکومت کو یا کسی عالمی ادارہ کو مجبور کیا جائے کہ وہ کسی مخصوص کام کو کرنے سے باز رہے۔

پروٹوکول کے مطابق جو شخص ایسے کام میں شریک ہو وہ بھی مجرم تصور ہوگا۔ جو تنظیم دوسروں کو ایسے کام کرنے کے لیے ہدایت دے وہ بھی مجرم ہوگی۔

اس پروٹوکول میں کہا گیا ہے کہ رکن ممالک کی حکومتیں اس ضمن میں ان عالمی معاہدوں کو تسلیم کریں گی جو اس وقت دنیا میں موجود ہیں اور جنہیں انھوں نے اب تک تسلیم نہیں کیا ہے۔ ان عالمی معاہدوں کی فہرست بھی مہیا کی گئی ہے۔

رکن ممالک کی حکومتیں قومی سطح پر ایسے تمام عملی اقدامات کریں گی اور قانون سازی کریں گی جس سے دہشت گردی کو دبایا اور اس کا خاتمہ کیا جاسکے۔

کٹھمنڈو پروٹوکول کا حصہ

 پروٹوکول کو سارک کے علاقائی کنوینشن برائے انسداد دہشت گردی، چار نومبر انیس سو ستاسی، کٹھمنڈو کا حصہ بنایا گیا ہے

اس ضمن میں حکومتیں ان بینکوں اور دوسرے مالی اداروں کی نگرانی کے لیے ریگولیٹری بندوبست کریں گی جو دہشت گردی کے لیے رقوم کی فراہمی کے لیے استعمال ہوسکتے ہوں۔

اس بندوبست میں شامل ہوگا کہ بینک ایسے اکاؤنٹس پر نگاہ رکھیں جن سے ایسے لوگوں کی شناخت ہو سکے جو مشکوک مالی لین دین کرتے ہوں اور اس کی اطلاع فورا متعلقہ حکام کو دی جاسکے۔

ہر حکومت ایسے اقدامات پر غور کرے گی جن کے تحت مالی انٹیلی جنس یونٹ قائم ہو سکیں اور انہیں برقرار رکھا جاسکے تاکہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے دی جانے والی رقوم کے بارے اطلاعات کے جمع کرنے، ان کا تجزیہ کرنے اور آگے اطلاع پہنچانے کے لیے قومی مرکز بنایا جاسکے۔

حکومت دہشت گردی کے لیے دیے جانے والے فنڈز کی شناخت اور پکڑنے کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔

حکومتیں امیگریشن اور کسٹم کنٹرول کے اقدامات کو بہتر بنانے اور دہشت گردوں کی شناخت کرنے اور ان کی عالمی سطح پر نقل حرکت اور اسلحہ، منشیات اور نشہ آور اشیاء کی غیر قانونی تجارت روکنے کے لیے اطلاعات کا باہمی تبادلہ کریں گی اور تعاون کو فروغ دیں گی۔

پناہ کا امتناع

 کسی ایسے شخص کو پناہ گزین کا درجہ نہیں دیا جا سکے گا جس پر اس پروٹوکول کے تحت جرم کرنے کا اطلاق ہوتا ہو

حکومتیں سفر کی دستاویزات پر کنٹرول بہتر بنانے اور ان کی جعلی نقول اور غلط استعمال روکنے کے لیے تعاون کریں گی اور معلومات کا تبادلہ کریں گی۔

اس پروٹوکول کے تحت حکومتوں پر بے دخلی کے عالمی قوانین کا اطلاق بھی ہوجائے گا۔

کوئی حکومت کسی ایسے شخص کو پناہ گزین کا درجہ بھی نہیں دے سکے گی جس پر اس پروٹوکول میں دی گئی تعریف کے تحت جرم کرنے کا اطلاق ہوتا ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد