| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سارک اجلاس ختم ہوگیا
اسلام آباد میں ہونے والا بارھواں سارک سربراہ اجلاس منگل کے روز اسلام آباد اعلامیہ کے اجراء کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔ مبصرین اس اجلاس کو ایک کامیاب اجلاس قرار دے رہے ہیں۔ اختتامی اجلاس آدھ گھنٹے سے بھی کم وقت میں رسمی کارروائیوں کے بعد ختم ہوگیا جس کے بعد سارک سربراہوں، وزراۓ خارجہ اور سیکرٹری خارجہ کے فوٹو سیشن ہوۓ۔ آج سارک ملکوں کے سربراہوں نے اسلام آباد اعلامیہ کی منظوری کا اعلان کیا اور سارک ملکوں کے وزراۓ خارجہ نے سارک کے انسداد دہشت گردی کے کنوینشن میں اضافی پروٹوکول اور جنوب ایشیا میں آزادانہ تجارت کے معاہدہ سیفٹا پر دستخط کیے۔ سارک ملکوں نے انسداد دہشت گردی کے کنوینشن میں دہشت گردی کی مالی معاونت پر پابندیاں لگانے کی شقیں شامل کی گئی ہیں تاہم اضافی پروٹوکول شامل کرنے کے باوجود دہشت گردی کی کسی تعریف پر اتفاق نہیں کیا ہے۔ بارھویں سارک سربراہ کانفرنس کو علامتی طور پر اور اس میں کیے گۓ حقیقی فیصلوں کے اعتبار سے بھی زیادہ امید افزا قرار دیا جارہا ہے۔ اس کانفرنس میں سات ملکوں کے سربراہوں نے ان معاملات پر اتفاق کیا جن پر وہ پہلے اختلافات میں الجھے رہتے تھے۔ وزیراعظم جمالی نے اپنی مختصر تقریر میں کہا کہ سارک کانفرنس کامیاب رہی اور انھوں نے ان پانچ اقدامات کا ذکر کیا جو اس کانفرنس میں کیے گۓ جس میں اسلام آباد اعلامیہ، سارک کا سوشل چارٹر ، انسداد دہشت گردی کا اضافی پروٹوکول، سیفٹا معاہدہ اور غربت کے خاتمہ کے ایکشن پلان پر اتفاق اور ان کی منظوری شامل ہے۔ جمالی نے کہا: ’سارک سے ہماری بہتر مستقبل کے لیے امیدیں وابستہ ہیں اور اس بارھویں اجلاس سے علاقائی تعاون کو ایک نئی توانائی ملے گی۔‘ انھوں نے کہا کہ اسلام آباد اعلامیہ علاقائی تعاون کا ایک نقشۂ راہ ہے۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم خالدہ ضیاء نے کہا کہ اسلام آباد اعلامیہ میں رکن ممالک کو درپیش مشترک چیلنجوں کا خیال رکھا گیا ہے اور ایسے نۓ راستے دریافت کیے گۓ ہیں جن سے علاقائی تعاون بڑھے۔ انھوں نے کہا کہ سارک کے اس اجلاس نے علاقہ میں غربت کے خاتمہ کے لئے کیے جانے والے اقدامات کو ایک نئی قوت بخشی ہے۔ سارک ملکوں کے سربراہاں منگل کو اسلام آباد سے اپنے اپنے ملکوں کو واپس چلے جائیں گے۔ مالدیپ کے سربراہ مامون عبدالقیوم گزشتہ روز ملک میں اپنی مصروفیات کے باعث چلے گۓ تھے۔ انکی نمائندگی ان کے وزیر خارجہ فتح اللہ جمیل نے کی۔ سارک کے چارٹر میں دو طرفہ معاملات پر بات چیت نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اس اجلاس کے موقع پر عام طور پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ بات چیت کا موقع پیدا ہوجاتا ہے۔ اس سربراہ اجلاس کے دوران میں بھی دونوں ملکوں نے اڑھائی سال کے وقفہ کے بعد بات چیت کی۔ دنیا کے تمام بڑے ممالک نے جن میں امریکہ، روس، چین اور برطانیہ شامل ہیں سارک سربراہ اجلاس کے موقع پر ہندوستان اور پاکستان کے سربراہوں کے درمیان دوطرفہ ملاقاتوں کا خیرمقدمی کیا۔ گزشتہ روز بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی جو ایک گھنٹے تک جاری ہے۔ اگرچہ سرکاری طور پر اس ملاقات کی تفصیلات ظاہر کرنے سے گریز کیا گیا تاہم دونوں جانب سے یہ کہا گیا کہ ملاقات میں اہم دو طرفہ معاملات زیر غور آئے۔ اس سے قبل واجپئی اور جمالی ملاقات ہوئی تھی جسے خیرسگالی ملاقات کہا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||