BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 January, 2004, 14:07 GMT 19:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سارک اجلاس: لائن آف کنٹرول سے

وزیراعظم واجپئی پر اہم ذمہ داری ہے
وزیراعظم واجپئی پر اہم ذمہ داری ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کنٹرول لائن پر بسنے والے کشمیری جہاں گزشتہ ایک ماہ کی فائر بندی سے سکون کی سانس لے رہے ہیں وہیں کل سے اسلام آباد میں شروع ہو رہی سارک کانفرنس سے بھی کافی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

سرحدی قصبہ اوڑی، سرینگر سے ایک کلومیٹر دور واقع ہے۔ اوڑی میں آباد بیس ہزار خاندان ایسے ہیں جن کے رشتہ دار بھائی، بہن، باپ، بیٹا، بیوی، شوہر گزشتہ پچاس سالوں سے کنٹرول لائن کے آر پار بچھڑے ہوئے ہیں۔

خواجہ اکبرجوگھرکوٹ گاؤں کے اسی سالہ بزرگ ہیں۔ وہ عمر کی اس دہلیز کو چھو رہے ہیں جہاں صرف خواہش ہی کی جاتی ہے۔ خواجہ اکبر جو کی آخری خواہش ہے کہ وہ اپنے بیٹے محمد یونس سے ایک بار مل سکیں جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انیس سو پینسٹھ سے مقیم ہیں۔

اکبر جو کو امید ہے کہ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سارک کانفرنس کے دوران دونوں ممالک کے سربراہاں سرینگر مظفر آباد سڑک کھولنے کا اعلان ضرور کریں گے تاکہ اکبر جو مظفر آباد بس سروس کے ذریعے پہلی بار جا کر اپنے بیٹے سے مل سکیں۔

جمالی اور واجپئی
جمالی اور واجپئی ساتھ ساتھ

اکبر جو کو اب بھی یاد ہے کہ انیس سو سینتالیس سے قبل سرینگر راولپنڈی روڈ پر گاڑیاں چلتی تھیں اور انہیں وہ سفر بھی یاد ہے جب انیس سو بیالیس کا راولپنڈی کا سفر انہوں نے بس میں کیا تھا۔

ماسٹر حسن الدین کا کہنا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ ان کی بھابی سن دو ہزار دو میں پاکستان میں انتقال کر گئیں لیکن وہ ماتم پرسی کے لئے نہیں جا سکے کیونکہ ’خونی لکیر‘ نے اس بات کی اجازت نہیں دی۔

اس بار ماسٹر حسن الدین نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ اگر بس سروس شروع ہو گئی تو وہ پہلی ہی بس میں روانہ ہو کر سرحد کے اس پار اپنی بھابی کی موت کا غم منائیں گے اور ان کے غم میں شریک ہو کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کریں گے۔

یہی خواہش گلزار بیگم کی بھی ہے جن کے والد غلام نبی گنائی انیس سو پینسٹھ سے پاکستان میں مقیم ہیں۔ اس وقت گلزار کی عمر تین سال کی تھی تب سے انہوں نے اپنے باپ کو نہیں دیکھا۔

سرحدی قصبہ اوڑی میں مقامی لوگ سرینگر مظفر آباد سڑک کھولنے کے اعلان کا بےصبری سے انتظار کر رہے ہیں اور اس خوشی میں کنٹرول لائن کے قریب لال پل کی سیر کرتے ہیں۔ یہ پل کشمیر کے دو حصوں کو تقسیم کرتا ہے۔ اِن دنوں یہاں لوگوں کا تانتا بندھا رہتا ہے جہاں سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا چکوٹی قصبہ قریب پڑتا ہے۔

فوج
کشمیر کے باعث دو جنگیں ہوئی ہیں

سرینگر مظفر آباد سڑک کھولنے کی امید سے خوشی صرف یہاں کے مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ غیر مسلموں میں بھی پائی جا رہی ہے۔ کنٹرول لائن کے قریب واقع لگامہ، بانڈی اور راجروانی گاؤں میں بسنے والی ہندو آبادی بھی سڑک کھلنے کے انتظار میں ہے۔

سماجی کارکن اشوک کمار شرما نے کہا کہ وہ پہلی بس میں مظفر آباد جانے کے خواہشمند ہیں جہاں وہ بچھڑے ہوئے اپنے مسلمان بھائیوں سے ملنے کے لئے بےتاب ہیں۔

مدن لال پروتھی بھی میرپور پاکستان میں بسنے والے اپنے آباؤ اجداد کے گاؤں کو دیکھنے کے متمنی ہیں جہاں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔

اوڑی کے بیشتر افراد انیس سو پینسٹھ سے پہلے بچھڑ گئے تھے۔ تاہم انیس سو نوے اور اکیانوے میں کنٹرول لائن کے قریب بسنے والے لوگ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر ہجرت کر گئے۔

مقامی آبادی جہاں مظفر آباد روڈ کھولنے کے امکان کو خوش آئند قدم قرار دیتی ہے وہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان دوریاں بھی کم ہوں گی۔

مقامی آبادی سارک کانفرنس کے حوالے سے یہ امید بھی کر رہی ہے کہ دونوں ممالک کے سربراہان کنٹرول لائن پر عارضی فائر بندی کو مستقل بنانے کا فیصلہ بھی کریں گے۔

اوڑی سے گزرنے والی مظفر آباد سڑک اگرچہ آمد و رفت کے قابل ہے لیکن سڑک کا آخری آدھ کلومیٹر کا وہ حصہ جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو چکوٹی سے ملاتا ہے، مرمت طلب ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس بات کا سروے گزشتہ دنوں ہی کیا گیا اور اس ضمن میں دو نئے پل تعمیر کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔

اوڑی مظفر آباد روڈ کھولنے کی خبر کے ساتھ ہی اوڑی قصبہ سڑک کے قریب واقع زمین کی قیمت میں اچانک کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے اور لوگوں نے سڑک کے دونوں جانب دکانیں، ہوٹل اور عمارتیں تعمیر کرنی شروع کر دی ہیں۔

یاد رہے کہ سرینگر راولپنڈی روڈ برصغیر کی تقسیم کے ساتھ ہی انیس سو سینتالیس میں بند کر دی گئی تھی اور اس وقت کے بعد سے اب تک اس سڑک پر گاڑیاں نہیں چلی ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد