رشتوں میں تبدیلی آئی ہے: بھارت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ جاری مذاکرات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ تاہم اس نے پھر اعادہ کیا ہے کہ اس پورے عمل کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاکستان سرحد پار سے دہشت گردی کی حمایت نہ کرنے کے اپنے وعدے کس حد تک پورا کرتا ہے۔ وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسو سی ایشن کے رکن صحافیوں کی ایک کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے رشتوں میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام، سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں کے رویے میں بھی یہ تبدیلیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ نٹور سنگھ کا کہنا تھا کہ ان تبدیلیوں کے گہرے اثرات پورے خطے پر بھی مرتب ہونگے۔ پاکستان کے ساتھ بھارت کے رشتوں کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ ہم تمام معاملات گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کے اپنے وعدے پر قائم ہیں تاہم بہتر ہوتے رشتے میں خاطر خواہ پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہے کہ صدر مشرف اپنا وہ وعدہ کس حد تک پور کرتے ہیں جس میں انہوں کہا تھا کہ پاکستان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے ہر گز استعمال نہیں کی جائے گی۔ مسٹر سنگھ نے اس موقع پر کہا کہ اگر سارک ممالک اراکین کے درمیان خارجی امور، سیکیورٹی کے مسائل جیسے کلیدی معاملات پر اتفاق رائے ہو تو ایک تنظیم کی حیثیت سے ہم زیادہ موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اگرچہ اس کانفرنس کا اہتمام سافما یعنی ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسی سو ایشین نے کیاتھا اور اس میں سبھی سارک ممالک کے صحافی بھی موجود تھے لیکن حسب معمول بھارت اور پاکستان کے درمیان رشتے اور کشمیر کا موضوع سبھی کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||