BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 July, 2004, 21:34 GMT 02:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی ایشیا: سلامتی کانیاایجنڈا

News image
سماجی اور معاشی مسائل علاقائی امن کے لیے سیاسی تنازعات سے زیادہ خطرناک ہیں: ماہرین
جنوبی ایشیا میں نئے سکیورٹی ایجنڈے کے موضوع پر برطانیہ میں ہونے والی کانفرنس میں شریک ماہرین اور مندوبین کے نزدیک خطے میں پانی، منشیات، نقل مکانی، غربت اور دیگر معاشی اور سماجی مسائل امن کے لیے سیاسی تنازعات سے بڑا خطرہ ہیں۔

برطانیہ کے سابق سفیر ہیلری سنوٹ نے جو اسلام آباد میں سن دوہزار سے دو ہزار تین تک تعینات رہے کہا کہ یقیناً کانفرنس کے شرکاء کے پاس نہ تو تمام مسائل کا حل ہے اور نہ ہر سوال کا جواب۔ تاہم اگر شرکاء کو متعلقہ مسائل پر غور و فکر کا موقع مل جائے تو ان کے حل کی جانب کچھ نہ کچھ پیش رفت ضرور ہوگی۔

سکیورٹی کے نئے ایجنڈے کے بارے میں بنگلہ دیش سے آئی ہوئی ایک مندوب عفیفہ ریحانہ کہتی ہے: ’اس کانفرنس کے دوران پانی سب سے بڑے علاقائی مسئلہ کے طور پر سامنے آیا ہے اور انڈیا اس کا مرکز ہے۔ جس سے گنگا، سندھ اور ماہاکالی دریاؤں کے طاس میں بسنے والے لاکھوں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ منشیات کی سمگلنگ، لوگوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی، بڑھتی ہوئی آبادی، علاقائی تجارت اور تعاون کا فقدان، یہ سب مسائل شامل ہیں۔ یہ نیا ایجنڈا ان ہی مسائل کو حل کرنے کے لیے جنوبی ایشیا کے لوگوں میں باہمی رابطے کو فروغ دینے پر زور دیتا ہے۔‘

شرکاء کے مطابق سماجی اور معاشی مسائل حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دو طرفہ اور علاقائی مذاکرات کا عمل جاری رہے اور تمام فریق اس میں بھر حصہ لیں۔ کانفرنس کے دوران سارک تنظیم کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

اگرچہ کئی مندبین نے ریاستی ڈھانچے اور سرکاری رویوں کو مسائل کی بنیادی وجہ قرار دیا تاہم بعض مندوبین کا خیال تھا کہ حکومت اور سول سوسائٹی کے ادارے جن میں دانش گاہیں، تعلیمی ادارے، پشہ ورانہ اور غیر سرکاری تنظیمیں شامل ہیں باہمی تعاون سے ان مسائل کا پائیدار حل ڈھونڈ سکتی ہیں۔

News image
فورم میں شرکت سے کئی معاملات پر ابہام دور کرنے میں مدد ملی: شرکاء

مسائل کے جغرافیائی مقام سے بہت دور اس طرح کے غور فکر اور ملاقاتوں کا کوئی فائدہ ہے یہ سوال میں نے پاکستان سے آئے ہوئے شہباز بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہاں آئے ہوئے مندوبین کے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ کانفرنس میں آنے سے قبل کئی لوگوں کے ذہن میں ایک دوسرے کے بارے میں غلط فہمیاں تھیں اور کئی مسائل کے بارے میں ابہام تھا۔ تاہم جب ان موضوعات پر بات ہوئی تو کئی چیزیں واضح ہوگئیں۔

شہباز بخاری کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں علاقائی سطح پر عوامی رابطہ اعتماد کی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔‘

اس سوال پر کہ وِلٹن پارک کو ہزاروں میل دور خطے کے مسائل سے کیا دلچسپی ہے، ادارے کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ایزابیل جیکس نے کہا: ’آپ اسے اپنا خطہ سمجھتے ہوں گے۔ مگر عالمی امن اور سلامتی کے اعتبار سے میں سمجھتی ہوں کہ ہمارا مستقبل بڑی حد تک ان واقعات سے وابستہ ہے جو جنوبی ایشیا کے بعض حصوں میں پیش آتے ہیں۔ مثلا تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے جب پاکستان اور بھارت جنگ کے دہانے پر کھڑے تھے اور جو لوگ اس خطے سے واقف ہیں وہ لندن میں بیٹھ کر اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ بلکہ ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم جنوبی ایشیا کے لوگوں سے بات کریں تاکہ سب پر امن ماحول میں رہ سکیں۔ دنیا میں اب کوئی کسی سے لاتعلق نہیں رہ سکتا‘۔

یہ کانفرنس برطانوی دفتر خارجہ اور دولت مشترکہ کے ذیلی ادارے وِلٹن پارک نے منعقد کروائی تھی جس میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال اور مالدیپ کے علاوہ برطانیہ کے ماہرین کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد