بھارتی بیان حرف آخرنہیں: پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر کی مذہبی بنیاد پر تقسیم کے امکان کو مسترد کرنے کے بھارتی وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کے بیان پر پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’ان کا یہ بیان حرف آخر نہیں ہے‘۔ اسلام آباد میں ایک بریفنگ کے دوران جب دفترِ خارجہ کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ’ کیا منموہن سنگھ کا یہ کہنا کہ کشمیر کی دوبارہ سرحد بندی نہیں ہوسکتی، ان کی صدر مشرف سے نیو یارک میں ہونے والی ملاقات کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ کی نفی نہیں ہے؟‘ تو ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ نہیں، ان کا بیان کوئی حرف آخر نہیں، پاکستان ایک متنازعہ علاقے کے حل کے لیے پرامید ہے۔‘ انہوں نے گزشتہ ستمبر میں صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم منموہن سنگھ کے درمیان نیو یارک میں ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں دونوں رہنماؤں نے’تمام ممکنہ آپشنز تلاش کرنے، پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے پرانے موقف سے ایک قدم آگے بڑھا ہے‘۔ بھارت کے زیرِانتظام کشمیر سے فوج کی واپسی کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ ’یہ اچھی ابتدا ہے اور پاکستان امید کرتا ہے کہ خطے میں بڑی تعداد میں موجود بھارتی فوج میں مزید کمی ہوگی۔ انہوں نے کہا ان کی اطلاع کے مطابق بھارت کی سات لاکھ کی فوج علاقے میں موجود ہے اور فوج کی تھوڑی سی تعداد کم کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تاہم انہوں نے فوج کی واپسی کے عمل کا خیر مقدم کیا۔ ترجمان نے جہاں معنی خیز مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل اور بھارتی فوج کی واپسی کے متعلق وزیراعظم منموہن سنگھ کے بیانات کا خیرمقدم کیا وہاں سرحد پار دہشت گردی کے متعلق ان کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا بڑا مسئلہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں جو بند ہونی چاہیئں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شوکت عزیز تئیس نومبر سے شروع ہونے والے اپنے پہلے دو روزہ دورۂ بھارت کے موقع پر بھارتی قیادت سے تمام دوطرفہ امور پر بات کریں گے، تاہم انہوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا تھا کہ ایران کے حزب مخالف کے ایک رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایران کو’اعلیٰ افزودہ یورینیم، فراہم کیا تھا تو ترجمان نے کہا کہ اس سلسلے میں ابھی تحقیقات مکمل نہیں ہوئیں اور تاحال ایران کو افزودہ یورینیم کی فراہمی کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا۔ ترجمان نے کہا کہ اس بارے میں ایران کی حکومت یا انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن نے پاکستان سے کچھ نہیں کہا اور ایران کے ایک مزاحمتی گروپ کے رہنما کے الزام کے متعلق وہ کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جوہری بلیک مارکیٹنگ کے خلاف تحقیقات کی ہے اور تاحال ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی جس سے ایسا الزام ثابت ہو۔ ترجمان نے بتایا کہ عالمی جوہری ایجنسی نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے انٹرویو کے لیے دوبارہ رابطہ نہیں کیا اور نہ نئی درخواست کی ہے۔ بغلیار ڈیم کے متعلق انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کو آج بریفنگ دی گئی ہے اور پاکستان کو اس ڈیم کے ڈیزائن سمیت مختلف معاملات پر سخت اعتراضات ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان دوطرفہ بنیاد پر یہ مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے اور عالمی ثالثی کا آپشن بھی موجود ہے۔ امریکہ سے تعلقات کے متعلق ترجمان نے کہا کہ پاکستان آئندہ دنوں میں امریکہ سے دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی مجوزہ فوجی امداد کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق مجوزہ امداد میں ایف سولہ کا ذکر نہیں جس کی پاکستان کو ضرورت ہے۔لیکن انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے دفاع کے شعبے میں تعاون کے متعلق گروپ کے آئندہ اجلاس میں تمام امور پر غور ہوگا۔ ترجمان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیاں انتیس اور تیس نومبر کو دلی میں منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کے متعلق دو روزہ مذاکرات ایک عالمی کانفرنس کی وجہ سے باہمی رضامندی سے ملتوی کیےگئے ہیں اور نئی تاریخیں طے کی جارہی ہیں۔ دریں اثناء صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ایک اجلاس بھی ہوا جس میں وزیراعظم شوکت عزیز کے بھارت کے دورے کے ایجنڈے پر بھی بات ہوئی جبکہ بغلیار ڈیم کے متعلق صدر اور وزیراعظم کو بریفنگ بھی دی گئی ۔ اس اجلاس کے متعلق تاحال سرکاری طور پر تفصیلات تو نہیں بتائی گئیں البتہ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شوکت عزیز کے ایجنڈے پر دیگر دو طرفہ امور کے علاوہ مسئلہ کشمیر اور بغلیار ڈیم سرفہرست ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||