’تقسیم مذہبی بنیاد پر نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ کشمیر کو مذہبی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے پچھلے ماہ تجویز کیا تھا کہ کشمیر کے کچھ ایسے حصے جو دونوں ممالک کے درمیان منقسم ہیں اقوام متحدہ کے مینڈیٹ یا دونوں ملکوں کے مشترکہ کنٹرول میں دے دئے جائیں۔
اس سال وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے کشمیر کے پہلے دورے کے موقع پر مسٹر سنگھ نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف پر واضح کردیا ہے کہ ’انٹرنیشنل بارڈر میں تبدیلیاں انڈیا کو منظور نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی بھی تجویز جو ایک بار پھر مزید تقسیم کی طرف اشارہ کرے۔‘ مسٹر سنگھ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ مہینوں میں شروع ہونے والی امن بات چیت کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سلسلے میں بالکل بھی نا امید نہیں۔ ’میرے خیال میں امن بات چیت میں بالکل بھی تاخیر نہیں ہوئی۔ ہم نے اس مختصر سے عرصے میں خاصے اہم فیصلے کئے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم کشمیر میں ہر اس شخص سے بات کرنے کے لئےتیار ہیں جو کوئی نکتہ نظر رکھتا ہے۔ مسٹر سنگھ نے کشمیر کے علیحدگی پسندوں کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کو پاکستان جانے کی اجازت سے مشروط کرنے پر نکتہ چینی بھی اور کہا کہ جب ہم ان پر کوئی شرط نہیں لگا رہے تو انہیں بھی بات چیت شروع کرنے کے لئے کوئی شرط عائد نہیں کرنے چاہئیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک ٹیکنیکل معاملہ ہے اور اگر لائن آف کنٹرول کو بارڈر بنائے جانے کی تجویز سامنے آئی تو اس پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔ مسٹر سنگھ نے اس موقع پر کشمیر کے لئے دو سو چالیس ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان بھی کیا جس کے تحت دو پاور پراجیکٹس، چھ کالجز اور پانچ انڈسٹریل تربیتی مراکز تعمیر کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ انگریزی کی تعلیم دینے والے آٹھ ہزار ٹیچرز کے لئے تنخواہ میں اضافہ اور سری نگر ائیر پورٹ کو بین الاقوامی ہوائی اڈہ بنایا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||