کشمیر میں فوج کم کرنے کا فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی حکومت نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں اس موسم سرما میں افواج کی تعیناتی میں کمی کرنے کا فصیلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایک بیان میں کہا ہے گزشتہ کئی مہینوں میں جموں میں تعینات ہندوستان کی مسلح فوج اور حفاظتی دستوں کی صورت حال بہتر بنانے میں کامیابی ملی ہے۔ بیان کے مطابق دراندازی روکنے کے لیے موثر اقدامات اور’د ہشتگردی‘ کے خلاف لڑائی میں عوام کی حمایت حاصل کرنے سے صورت حال میں قابل ذکر بہتری آئی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صورت حال بہتر ہونے کے سبب جموں و کشمیر میں اقتصادی سرگرمیاں بڑھی ہیں اور سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے اور لوگوں میں تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ان حقائق کے پیش نظر شورش زدہ وادی میں اس جاڑے کے موسم میں فوج کی تعیناتی ميں کمی جائےگی۔ تاہم مسٹر سنگھ نے کہا کہ سرحد پار اور کنٹرول لائن پر دراندازی کی کوششیں اب بھی کی جاری ہیں اور تربیت گاہوں اور لانچنگ اڈوں کی شکل میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے اب بھی موجود ہیں۔ اس لیے سرحدوں کی نگرانی میں کسی طرح کی غفلت نہیں برتی جائیگی۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ ان حالات کے پیش نظر فوج کی تعیناتی میں کمی کے فیصلے کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا رہیگا۔ اور اگر دراندازی اور دہشت گردانہ تشدد میں اضافہ ہوا تو ضرورت کے مطابق مزید فوج تعینات کی جائیگی۔ مسٹر سنگھ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب وہ ایک ہفتے کے بعد شورش زدہ وادی کا دورہ کرنے والے ہیں۔ فوج کی تعیناتی میں کمی کے اعلان کو انکے اس دورے سے قبل ماحول سازگار کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||