BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 November, 2004, 09:12 GMT 14:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: ادھر کے صحافی اس طرف

کشمیر
پاکستانی صحافیوں کے دورۂ کشمیر کے موقع پر بعض طلباء نے احتجاج کیا
بھارت اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے صحافی پیر کی شام کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پہنچ گئے۔ یہ دورہ ساوتھ ایشن فری میڈیا ایسوسی ایشن، سافما کے زیر اہتمام ہورہا ہے۔

گذشتہ نصف صدی میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ حکومت پاکستان نے ہندوستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو کشمیر کے اس علاقے کا دورہ کرنے کی اجازت دی ۔

صحافیوں کا یہ وفد پیر کی شام کشمیر کے اس علاقے کے شہر میر پور پہنچا جہاں ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر اس وفد کے سربراہ اور بھارت کے لیے سافما کے سیکریڑی جنرل ونود شرما نے کہا کہ صحافیوں کو کشمیر کے دونوں حصوں میں جانے کی اجازت دینا ہندوستان اور پاکستان کے حکومتوں کا بہت بڑا قدم ہے۔

واضع رہے گزشتہ ماہ سافما کے زیر اہتمام پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے صحافیوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کا دررہ کیا تھا۔

مسڑ شرما نے مزید کہا کہ ان کے دورے کے کوئی مخصوص سیاسی مقصد نہیں ہے بلکہ ان کے کہنے کے مطابق وہ یہ دیکھنے آئے ہیں کہ اس طرف کے لوگ کیا کہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس طرح کے دورے ماحول کو شفاف بنانے میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔

سافما کے زیر اہتمام لاہور میں ذرائع ابلاغ اور جنوبی ایشیا میں امن کے موضوع پر ہونے والی دو روزہ کانفرنس اتوار کو ختم ہوئی تھی۔

اس وفد میں زیادہ تر وہ صحافی ہیں جنکا تعلق بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہے۔

سرینگر سے تعلق رکھنے والے صحافی بشیر منظر نے اس موقع پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے دونوں جانب بسنے والے لوگ ایک ہیں اور ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے اس حصے میں قدم رکھ کر انہیں جیسے جذبات اور محسوسات کا تجربہ ہوا ہے انہیں لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

سرینگر سے شائع ہونے والے اخبار کشمیر امیجز کے چیف ایڈیڑ بشیر منظر نے کہا کہ کشمیروں کے درمیان ہر سطح پر رابطے ہونے چاہیں کیونکہ ان کے کہنے کے مطابق یہ رابطے نہ صرف مسائل کی شدت میں کمی لانے کے لیے مفید ہو سکتے ہیں بلکہ یہ رابطے مسائل کو حل کرنے میں بھی معاون و مدد گار ثابت ہوں گے۔

وفد منگل کی دوپہر اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگا اور جمعرات کو دوبارہ تین روزہ دورے پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد پہنچے گا اور وزیراعظم، صدر اور مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کرنے کے ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے تبادلہ خیال کرے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد