BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 October, 2004, 15:28 GMT 20:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی صحافیوں کے خلاف مظاہرہ
پاکستانی صحافیوں کی آمد پر کشمیری طلبہ کا مظاہرہ
پاکستانی صحافیوں کی آمد پر کشمیری طلبہ کا مظاہرہ
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرکاری اور سیاسی سطح پر دورے پر آئی ہوئی پاکستانی صحافیوں کی اٹھارہ رکنی ٹیم کا والہانہ استقبال کیا گیا، انہیں چیدہ چیدہ پکوان کھلائے گئے اور ان کی رہائش و تفریح کا خاص خیال رکھا گیا۔ مگر عوامی سطح پر یہ دورہ سرد مہری کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔ بعض مقامات پر لوگوں نے اس دورے کے خلاف غصے کا اظہار بھی کیا ہے۔

پاکستانی صحافیوں کی ٹیم جب کشمیر یونیورسٹی کے طلباء سے تبادلۂ خیال کرنے پہنچی تو طلبہ کے ایک چھوٹے گروہ نے انہیں واپس جانے کو کہا۔ ان لوگوں نے ایک طرف پاکستان اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کیے تو دوسری طرف دورے پر آئے ہوئے صحافیوں کو سرکاری مہمان ٹھہرایا۔

’آپ لوگ تو ہماری مصیبت کا مذاق اڑانے آئے ہیں آپ سیر اور کشمیری مہمان نوازی کا لطف اٹھانے یہاں آئے ہیں۔‘

اس دورے کا اہتمام ساؤتھ ایشیئن فری میڈیا ایسوسی ایشن (سیفما) نےکیا ہے۔ تنظیم کے جنرل سیکریٹری اور پاکستانی صحافی امتیاز عالم وفد کی سربراہی کر رہے ہیں۔ اٹھارہ رکنی ٹیم میں تین خواتین شامل ہیں۔

روزنامہ دی نیو کی ماریانہ بابر،

News image
نیوز لائن جریدے کی ایڈیٹر ریحانہ حکیم اور جیو ٹیلی وژن کی منیزہ جہانگیر بھی اس وفد میں شامل ہیں۔ پاکستانی صحافیوں کی ٹیم میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دو صحافی بھی اس دورے میں شامل ہیں۔

روشن مغل مظفر آباد میں ایسوسی ایٹڈ پریس اور اے آر وائی ٹی وی کے نمائندہ ہیں اور سرینگر سے شائع ہونے والے کثیر الاشاعتی روزنامہ الصفاء کے بھی نمائندہ ہیں۔ طارق نقاش مظفر آباد سے سرینگر سے شائع ہونے والے انگریزی رومنامہ گریٹر کشمیر کے لیے کام کرتے ہیں۔

روشن مغل نے ایک طویل بات چیت کے دوران بتایا کہ کشمیر ان کی توقعات سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے۔ ریاست کے سرمائی دارالحکومت جموں سے صحافیوں کی یہ ٹیم منگل کو یہاں بس کے ذریعے تین سو کلومیٹرکا فاصلہ طے کر کے پہنچی۔

جنوبی ضلع اننت ناگ میں صحافیوں کی ٹیم نے ویری ناگ چشمے کا دورہ کیا۔ ویری ناگ چشمے سے دریائے جہلم کا آغاز ہوتا ہے جو وادیِ کشمیر سے گزر کر پاکستان کے زیر انتظام علاقے میں دریائے سندھ میں جا ملتا ہے۔ روشن مغل نے بتایا کہ انہیں یہ اندازہ نہ تھا کہ یہاں چپے چپے پر مسلح حفاظتی دستے تعینات ہوں گے۔

 ’میں یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ یہاں ہر چھوٹے بڑے چوراہے پر فوج تعینات رہتی ہے۔‘
پاکستانی صحافی
’میں یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ یہاں ہر چھوٹے بڑے چوراہے پر فوج تعینات رہتی ہے۔‘ مگر اس کے باوجود روشن مغل نے یہ بات بھی تسلیم کی کہ دورے کے دوران پاکستانی صحافیوں کو گھومنے پھرنے کی آزادی میسر رہی۔ ’لیکن وقت ہی اس قدر مختصر ہے کہ ہم ہر جگہ نہیں جا سکیں گے خاص طور پر وہ دور افتادہ گاوں جہاں مجھے جانے کی خواہش ہے۔‘ روشن مغل کا کہنا ہے کہ سرینگر اور اس کے مضافات میں جیسے تیسے زندگی معمول سے گزر رہی ہے۔ ’مجھے بتایا گیا کہ اب حالات پہلے سے بہت بہتر ہیں مگر جب تک ستاون برس پرانے مسئلے کا مستقل حل تلاش نہیں کیا جاتا حالات ہمیشہ بےاطمینانی کا شکار رہیں گے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کشمیر کا دائمی حل ممکن ہے توانہوں نے کہا کہ ’دیکھیے ہم صحافی ہیں اور یہاں صورت حال کا مشاہدہ کرنے آئے ہیں۔ ہمیں اپنا کام کرنے دیجیئے۔ ہم یہاں جو دیکھیں گے اسے ایمانداری سے رپورٹ کریں گے۔ ہم یہاں تاریخ رقم کرنے نہیں بلکہ اس کامشاہدہ کرنےآئے ہیں۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘

دورے پر آئے ہوئے لاہور سے شائع ہونے والے فرائی ڈے ٹائمز کے نیوز ایڈیٹرصحافی اعجاز حیدر نے کہا کہ ’یہاں کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کشمیر پاکستان میں مدغم ہو جبکہ بعض مکمل آزادی کے حق میں ہیں۔ جموں کے لوگ بھارت کے ساتھ مل کر رہنا چاہتےہیں لیکن بغور جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے کہ عوامی جذبات بکھرے ہوئے ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی کے دورے کے دوران میں نے بہت سے طلبا سے ملاقات کی۔ کچھ بالکل ناراض دِکھے اور ہمیں واپس جانے کو کہا مگر طلبا کی ایک بڑی تعداد اس بات کی خواہشمند ہے کہ علاقے میں جاری تشدد بند ہو اور کشمیریوں کے سیاسی جذبات کا احترام کیا جائے۔‘

اعجاز احمد نے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر یہ محسوس کرتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت نے کشمیر پر بیش بہا وسائل اور وقت صرف کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آگےبڑھا جائے تاکہ کشمیر کی الجھی ہوئی گتھی سلجھ جائے۔

پاکستانیوں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے ایک بات واضح تھی کہ وہ کسی قسم کے مباحثے میں پڑنے کے حق میں نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی صحافی نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کسی ایک حتمی حل کا خلاصہ پیش کرنے سے انکار کیا مگر یہ صحافی ایک بات پر متفق تھے کہ فریقین کو اب دوستی اور باہمی اعتماد کی فضا نہ صرف قائم رکھنی ہو گی بلکہ اسے آگے بھی بڑھانا ہو گا۔

اعجاز احمد کا یہ جملہ ہر پاکستانی صحافی کی زبان پر تھا کہ ’اگر دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو وہ وقت دور نہیں کہ کشمیر جیسا مسئلہ اپنی جذباتیت کھو بیٹھے اور اس کا ایک قابل قبول حل نکل آئے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد