ہندوستانی رویہ لچکدار ہے: منموہن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ کمپوزٹ ڈائیلاگ کے بارے میں بہت سنجیدہ ہے۔ منموہن سنگھ نےامید ظاہر کی کہ بامعنی مذاکرات سے دونوں ممالک کے درمیان تمام تصفیہ طلب معاملات حل ہوسکتے ہیں۔ مسٹر سنگھ نے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کے اس بیان کو بھی مسترد کردیا کہ کشمیر کے مسئلے پر ہندوستان کا رویہ لچکدار نہیں ہے۔ صحافیوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوۓ مسٹر سنگھ نے کہا کہ ’ محض چند متفرق الفاظ کی بنیاد پر ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ اس مسئلے پر لچک نہیں پائي جاتی ہے۔ دونوں ہی جانب سے اس مسئلے پر خلوص کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے‘ ۔ منموہن سنگھ نے کہا ’ ہندوستان پاکستان کے ساتھ ہمہ جہتی مذاکرات کے لیۓ بہت ہی سنجیدہ ہے اور چاہتا ہے کہ اس سمت میں اچھی پیش رفت ہو‘۔ انہوں نے کہا کہ انکے پاکستانی ہم منصب شوکت عزیز ہندوستان کے دورے پر آرہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ ان سے بامعنی بات چیت ہوگی۔ مسٹر سنگھ نے امید ظاہر کی کہ تمام مسائل اور پریشانیاں معنی خیز مذاکرات سے حل ہو سکتے ہیں۔ شمال مشرقی ریاستوں کے دورے کے آخری دن وزیراعظم نے ان تمام علیحدگی پسند جماعتوں سے بات چیت کی بھی پیش کش کی ہے جو تشدد کا راستہ ترک کردیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ منی پور میں تشدد سے نمٹنے کے لیے متنازعہ قانون’ اسپیشل آرمڈ فورسز ایکٹ‘ کی جگہ ایک ایسا نیا قانون نافذ کیا جاۓگا جس میں انسانی پہلوؤں کا خیال رکھا گیا ہو۔ لیکن انہوں نے کہا کہ متنازعہ قانون کا مکمل خاتمہ تبھی ممکن ہے جب ریاست میں دہشت گردی کی کاروائیوں کا خاتمہ ہوجائے۔ مسٹر سنگھ نے حقوق انسانی کی تنظیموں کے اتحاد سے اپیل کی کہ وہ اسپیشل آرمڈ فورسز ایکٹ کے خلاف اپنی مہم اس وقت تک کے لیے بند کردیں جب تک کہ اس پر نظر ثانی نہیں ہوجاتی۔ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے سبکدوش چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس متنازعہ قانون کا جائزہ لے رہی ہے۔ لیکن حقوق انسانی کی ان تیرہ تنظیموں کے اتحاد نے جو اس متنازعہ قانون کے خلاف احتجاج کرتا رہا ہے کہا ہے کہ آئندہ ماہ دسمبر کی دس تاریخ تک اگر اس قانون کا خاتمہ نہیں ہوا تو وہ پھر اپنی کاروائیاں پھر شروع کر دیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||