مشرف کے بیان پر تبصرے سے گریز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر کی تقسیم کے بارے میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے بیان پر پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے جس رد عمل کا اظہار کیا تھا اس پر ہندوستانی حکومت نے کوئی ردِ عمل ظاہر کرنے سے گریز کا انداز اپنایا ہے۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ کشمیر معاملے پر منموہن سنگھ نےاپنی پوزیشن بالکل واضع کر دی ہے۔ نئی دلی میں صحافی وزیرخارجہ نٹور سنگھ سے بار بار یہی سوال کرتے رہے کہ پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے منموہن سنگھ کے بیان پر جو بھی کچھ کہا ہے اس کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں؟ تاہم نٹور سنگھ مسلسل اس سوال کے جواب سے گریز کرتے رہے لیکن کشمیر کے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ اس معاملے پر اپنا موقف واضع کر چکے ہیں۔ اس مسئلے پر جب ان سے صدر مشرف کی تجویز کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا انہیں صرف اتنا معلوم ہے کہ جنرل مشرف نے کسی افطار پارٹی میں تجاویز کے متعلق کچھ باتیں کہیں تھیں۔ لیکن انکے ذہن میں کیا تھا وہ وہ نہیں جانتے ہیں اور نہ ہی اس بارے میں کوئی رابطہ ہوا ہے ۔مسٹر سنگھ نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز اس ماہ کی 23 تاریخ کو بھارت آ رہے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھ کیا لا تے ہیں۔ ادھرحکمراں جماعت کانگریس نے وزیراعظم کے بیان کی تعریف کی ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ منموہن سنگھ نے بڑی سختی سے ملک کی سلامتی پر کوئی بھی سمجھوتہ نہ کرنے پر زور دیا ہے اور ساتھ ہی ان جماعتوں سے غیر مشروط بات چیت کی پیش کش کی ہے جو تشدد کا راستہ ترک کردیں۔ نئی دہلی میں حکام کو اب پاکستانی وزیراعظم شوکت عزیز کی آمد کا انتظار ہے اور ان سے کسی ملاقات سے قبل حکام کوئی ایسا بیان نہیں دینا چاہتے جس سے غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہوں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||